رسائی کے لنکس

چیک پوسٹ پر حملے کے بعد علاقے میں بھیجی گئی پولیس کی اضافی نفری کے ساتھ شدت پسندوں کی جھڑپ میں پانچ حملہ آور بھی مارے گئے۔

افغانستان میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں دو بچوں سمیت کم ازکم 14 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی افغان صوبے جوزجان میں پولیس کے اعلیٰ عہدیدار عبدلمنان رؤفی نے اتوار کو بتایا کہ ہفتے کو دیر گئے ضلع کشتیپا کے ایک گاؤں شدت پسندوں نے ایک چوکی پر حملہ کیا جس سے سات اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

ان کے بقول حملے بعد علاقے میں پولیس کی اضافی نفری بھیجی گئی جس کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں پانچ حملہ آور مارے گئے۔

طالبان شدت پسندوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر مشرقی صوبہ کنڑ کے علاقے نار میں ایک گاڑی سڑک میں نصب بم سے ٹکرا گئی جس سے دو بچوں سمیت سات شہری ہلاک ہوگئے۔

واقعے میں تین افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

دریں اثناء صوبہ کنڑ کے ترجمان عبدالغنی مصمم کے مطابق گزشتہ ایک ہفتہ سے سرکاری فوجیوں اور باغیوں کے درمیان ہونے والی اب بھی لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وثوق سے نہیں بتایا جا سکتا کہ اس لڑائی میں کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے تاہم ان کے بقول اب تک تین عام شہری اور 28 باغیوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ رواں ماہ کے اوائل میں کابل کے ایک اسکول میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک صحافی زبیر حامتی ہفتہ کو دیر گئے اسپتال میں دم توڑ گیا۔

XS
SM
MD
LG