رسائی کے لنکس

مبینہ طور پر، ایمی محبت اور شادی کے نام پر لوٹی گئی، رشتوں کی آڑ میں اسے انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔ جبری مذہب تبدیل کرانے کے باوجود اسے جیتے جی آگ میں جھلسا دیا گیا۔ اور چند پیسوں کے عوض، اسے بازار حسن میں لاکھڑا کیا۔۔۔

اگر آپ کو انسانی اسمگلروں کے ہتھ کنڈوں میں پھنسی، ہر روز جینے اور ہر روز مرنے والی کسی ایسی عورت کو دیکھنا ہو جو کانٹوں کی سیج پر زندگی کا مشکل سفر طے کررہی ہو تو۔۔ ’ایمی‘ کو دیکھئے۔

مبینہ طور پر، ایمی محبت اور شادی کے نام پر لوٹی گئی، رشتوں کی آڑ میں اسے انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں فروخت کیا گیا، جبری مذہب تبدیل کرانے کے باوجود اسے جیتے جی آگ میں جھلسا دیا گیا۔ اور چند پیسوں کے عوض اسے بازار حسن میں لاکھڑا کیا۔۔۔ایمی ۔۔ ایک کے بعد ایک ستم سہتی ایک ایسی ہی زندہ لاش کا نام ہے۔

ایمی اس وقت انسانی حقوق اور ظلم کا شکار خواتین کے لئے کام کرنے والی تنظیم ’مددگار‘ میں پناہ لئے ہوئے ہے، جس کے ضیا اعوان سربراہ ہیں۔ ایمی نے میڈیا کو دی گئی بریفنگ میں اپنے اوپر گزرنے والی ہر مشکل سے متعلق صحافیوں کو آگاہ کیا۔

ٹھٹھہ کی رہائشی اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی ایمی نے بتایا کہ 2008میں اُن کی محمد رحیم سے فون پر دوستی ہوئی۔ بقول ایمی، محمد رحیم نے سبز باغ دکھاتے ہوئے اسے شادی کی پیشکش کی اور کہا کہ ہم کورٹ میرج کرلیں گے۔

ایمی کے مطابق، محمد رحیم اسے مبینہ طور پر اپنے گاوٴں ’محمد صدیق بلوچ‘ لے گیا اور قید کر دیا۔ پچیس دن بعد اس نے ایمی کو جاوید خاصخیلی اور اس کے بھائی خالد حسین کو فروخت کردیا جو اسے نوابشاہ لے گئے۔ انہوں نے خاتون کو نہ صرف زبردستی مذہب تبدیل کرنے،خاصخیلی سے شادی کرنے اور زبردستی جسم فروشی پر بھی مجبور کیا۔

بقول ایمی، گھر میں اس کے علاوہ تین لڑکیاں اور بھی تھیں۔ لیکن ان کی آپس میں بات چیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان سے زبردستی گھر اور کھیتوں میں کام کروایا جاتا تھا۔

ایمی کی مشکلات میں اس وقت ناقابل بیان اضافہ ہوگیا جب اس نے فرار کی کوشش کی۔ جاوید خاصخیلی اور اس کے بھائی کو فرار کا علم ہوگیا اور انہوں نے مبینہ طور پر اس پرمٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس سے اس کا60 فیصد جسم جھلس گیا۔

ایمی نے صحافیوں کو اپنے جھلسے ہوئے ہاتھ پاوٴں دکھاتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسے ایک بار زہر بھی دیا گیا تھا، جس سے اس کی حالت غیر ہوگئی۔ تاہم، ڈاکٹروں نے اسے کسی نہ کسی طرح بچالیا۔

ایمی کا کہنا تھا کہ فرار کی اس ناکام کوشش کے بعد اسے قید کرنے والوں نے حیدرآباد منتقل کردیا۔ لیکن حالیہ عید کے دوسرے دن وہ قید سے فرار ہوکر ٹھٹھہ میں واقع اپنے گاوٴں پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہاں آکر اسے اپنے والد کی موت کا علم ہوا۔

ایمی نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس نے ایف آئی آر تک درج کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انکار کے ساتھ ساتھ اسے جان سے مارنے اور خوفناک انجام کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ کراچی آگئی جہاں اسے ’مددگار نیشنل ہیلپ لائن‘ کے حوالے کردیا گیا۔

’مددگار نیشنل ہیلپ لائن‘ کے بانی ضیا اعوان نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ ’خواتین کے خلاف جرائم کی ایف آئی آر درج نہ کرنا ایک طرح کی دہشت گردی ہے۔ اگر اب بھی ایف آئی آر درج نہ کی گئی تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔‘

XS
SM
MD
LG