رسائی کے لنکس

شام: القاعدہ کے حامیوں کا اہم قصبے پر قبضہ


فائل

فائل

سیریئن آبزرویٹری نے خبر دی ہے کہ حکومت کے حامی جنگجوؤں کی کم از کم 60 لاشیں گلیوں میں پڑی ہوئی ہیں؛ اور اُس نے ایک وڈیو ٹیپ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کو انسانی ڈھال بناکر فوجی لڑائی سے کنی کترا کر بھاگ رہے ہیں

القاعدہ کے شام کے جتھے اور اس کے اتحادی ساتھیوں نے ہفتے کو صوبہ ادلب میں حکومتی اختیار والے آخری اہم قصبے پر قبضہ کر لیا ہے، جس کے باعث اب باغیوں کے پاس ایک ممکنہ راستہ میسر آگیا ہے، جس کے ذریعے وہ اسد حکومت کے ساحلی گڑھ کی جانب پیش قدمی کرسکتے ہیں۔

برطانیہ میں قائم ’سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائسٹس‘ نے کہا ہے کہ النصرہ محاذ اور ’اسلامسٹ بریگیڈز‘ نے ہفتے کو جسر الشغور کے شمال مغربی قصبے پر مکمل قبضہ حاصل کر لیا ہے، جس سے قبل چار روز تک اُن کی شامی افواج کے ساتھ لڑائی ہوتی رہی۔
اِس میں کہا گیا تھا کہ قصبے کے مغربی حصے میں جھڑپیں جاری ہیں۔

آبزرویٹری نے خبر دی ہے کہ حکومت کے حامی جنگجوؤں کی کم از کم 60 لاشیں گلیوں میں پڑی ہوئی ہیں؛ اور اُس نے ایک وڈیو ٹیپ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کو انسانی ڈھال بناکر فوجی لڑائی سے کنی کترا کر بھاگ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جسر الشغور کے حکومتی ہاتھوں سے جانے کے بعد، باغی بحیرہ روم میں واقع ہمسایہ لتاکیہ کی جانب جانے والے حکمت عملی کے راستے پر قابض ہو چکے ہیں، جو صدر بشار الاسد کے حامیوں کا ایک گڑھ خیال کیا جاتا تھا۔


XS
SM
MD
LG