رسائی کے لنکس

تھری ڈی فلموں سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتاہے


تھری ڈی فلموں سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتاہے

تھری ڈی فلموں سے آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتاہے

تھری ڈی فلموں کا ذکر یوں تو عرصے سے ہورہاہے اور بعض موقعوں پر محدود پیمانے پر ان کی نمائش بھی کی جاتی رہی ہے لیکن عام سینما گھروں میں، عام پبلک کے لیے پیش کی جانے والی پہلی تھری ڈی فلم اواتار ہے، جو باکس آفس پر بے مثال کامیابی اور ریکا رڈ بزنس حاصل کررہی ہے۔ جسے دیکھتے ہوئے اب فلمی پنڈت کہہ رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں نہ صرف تھری ڈی فلموں کی مانگ اور پروڈکشن بڑھے گی بلکہ تھری ڈی ٹیلی ویژن کوبھی اپنی جگہ بنانے میں مدد ملے گی۔

سائنس فکشن کی اس شاندار فلم نے جیمز کیمرون کے لیے گولڈن گلوب ایوارڈز میں بہترین ڈائریکٹر اور بہترین ڈرامہ کے ایوارڈز جیتے ہیں۔

شین جانسن کا کہنا ہے کہ جب آپ ایک فلم دیکھتے ہیں اور وہ آپ کو تفریح پہنچاتی ہے تو آپ اس فلم کے سحر میں گم ہو جاتے ہیں۔

لیکن یہ سب باتیں ایک طرف، یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے کے پروفیسر مارٹن بینکس کا کہنا ہے کہ تھری ڈی فلموں سے آنکھوں پر برا اثر پڑتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب ہم قریب کی چیزوں کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھیں ایک جگہ پر مرکوز ہو جاتی ہیں اور دور کی چیزوں کو دیکھنے کے لیے اس کا عمل اس کے الٹ ہوتا ہے۔

بصارت کے پروفیسر مارٹن بینکس کا کہنا ہے کہ تھری ڈی فلمیں ہماری آنکھوں کو بیک وقت دور اور نزدیک دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جسے ورجنس اکوموڈیشن کانفلیکٹ کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے سر درد اور نظر کی دھندلاہٹ ہوتی ہے۔

مارٹن بینکس کا کہنا ہے کہ آپ اپنے دماغ میں بصارت کےلیے برسوں سے قائم ایک اصول کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے آنکھوں پر بوجھ پڑتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کم عمر کے فلم بینوں میں اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں ۔ جب کہ 50 /60 سال کی عمر میں بصارت کو نقصان پہنچنے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔ لیکن کم عمر لوگوں اور نوجوانوں کے لیے یہ خطرہ بہر حال موجود رہتا ہے۔

پروفیسر بینکس کا کہنا تھا کہ انھوں نے فلم پروڈیوسرز سے بات کی ہے اور وہ تھری ڈی فلموں میں کچھ تبدیلیوں کے لیے آمادہ ہیں جس سے آنکھوں پر پڑنے والے اثر کو کم کیا جا سکے۔لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے شاید خطرات کم ہو جائیں لیکن ختم نہیں ہوں گے۔

کچھ بھی ہو تھری ڈی فلمیں بنتی رہیں گی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے پانچ برسوں میں تھری ڈی ٹیلی ویژن کے رحجان میں بھی واضح اضافہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG