رسائی کے لنکس

آسٹریلوی شخص پر داعش کی حمایت کا الزام


آسٹریلوی تفتیش کار

آسٹریلوی تفتیش کار

ملزم نے آسٹریلوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک امدادی مشن کے رکن کی حثیت سے شام گئے تھے جہاں زخمی ہونے کے بعد انہیں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔

طب کے شعبے سے وابستہ ایک آسٹریلوی شخص شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم داعش کی مبینہ حمایت کرنے پر دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے۔

آدم بروک مین پیشے کے اعتبار سے نرس ہیں اور ان پر اتوار کو میلبورن کی عدالت میں پہلا الزام یہ عائد کیا گیا کہ انھوں نے دانستہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم کو مدد فراہم کی ہے جبکہ دوسرا الزام "ارادی طور پر ایک شخص کے لئے ایک غیر ملک کی مخالفانہ سرگرمیوں کے لئے خدمات انجام دینے کا ہے"۔

39 سال بروک مین جمعہ کو ترکی سے وطن واپس آئے تھے جہاں انھوں نے شام سے واپس آنے کے بعد اپنے آپ کو حکام کے سامنے پیش کیا۔ پانچ بچوں کے باپ نے آسٹریلوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک امدادی مشن کے رکن کی حثیت سے شام گئے تھے جہاں زخمی ہونے کے بعد انہیں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔

آ سٹریلیا میں اندرونی طور پر عسکریت پسندوں کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی کو چوکس کر دیا گیا ہے جو داعش اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے ساتھ مل کر لڑنے کے لئے مشرق وسطیٰ کا سفر کر چکے ہیں۔

پولیس کے طرف سے ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کی کئی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ وزیر اعظم ٹونی ایبٹ قومی سلامتی کے کئی نئے قوانین منظور کر وا چکے ہیں اور وہ ایک ایسے اقدام کی حمایت کررہے جس کے تحت آسٹریلوی شہری دہری شہریت نہیں رکھ سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG