رسائی کے لنکس

باجوڑ: خواتین پر پابندیاں لگانے والے جرگے کی مذمت کا سلسلہ جاری، حکومت کا نوٹس


فائل فوٹو
فائل فوٹو

افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع باجوڑ کے سرحدی علاقے ماموند میں چند روز قبل روایتی جرگے میں خواتین پر لگائی گئی پابندیوں کی سماجی اور سیاسی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

جرگے کے فیصلوں میں ایف ایم ریڈیوز پر خواتین کو گپ شپ کرنے کی ممانعت، خواتین کی نشوونما کے مراکز اور نیوٹریشن سینٹرز جانے پر پابندی بھی شامل ہے۔ ان پابندیوں کو سماجی کارکن غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے رہے ہیں۔

قبائلی ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم نوشین فاطمہ نے جرگے کے فیصلوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں خواتین کو ان کے جائز اسلامی، انسانی اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ لہذٰا قبائلی رہنماؤں کو ان مسائل پر جرگہ کرنا چاہیے تھا۔

نوشین کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں کم سن بچیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں۔ انہیں اپنے جائز اسلامی حقوق بشمول حقِ وراثت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ لہذٰا قبائلی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ ان غیر اسلامی اقدامات کی روک تھام کے لیے جرگے منعقد کریں اور اسلامی قوانین کے خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دے اور ان کے خلاف پابندیاں عائد کریں۔

وزیرِ اعلٰی خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات کامران بنگش نے بھی ایک بیان میں باجوڑ جرگہ کے ان فیصلوں کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے باجوڑ جرگہ میں شامل ممبران کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم عورت فاؤنڈیشن کی عہدے دار صائمہ منیر نے اس قسم کے فیصلوں اور جرگوں کو ان کے اپنے الفاظ میں حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے کئی برس قبل خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے ہیں، مگر ابھی تک حکومتی اداروں نے بقول ان کے یہاں کام شروع نہیں کیا۔

قبائلی علاقے لنڈی کوتل کی نوجوان مصورہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:34 0:00

اُن کے بقول حکومتی عمل داری نہ ہونے کے نتیجے میں اس قسم کے جرگے منعقد ہوتے رہتے ہیں جو اس طرح کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی ادارے اسی طرح غیر فعال رہے تو پھر قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا کوئی فائدہ نہیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے جرگے کے ان فیصلوں کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے باجوڑ کی انتظامیہ کو متعلقہ قبائلی رہنماؤں کے ساتھ رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

باجوڑ پریس کلب کے سابق صدر اور سینئر صحافی محمد سلیم خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انتظامیہ کے رابطوں کے نتیجے میں اب جرگہ ممبران اپنے مؤقف سے ہٹ رہے ہیں۔

باجوڑ میں نوجوانوں کی ایک تنظیم کے سربراہ واجد علی خان نے کہا کہ چونکہ ایف ایم ریڈیو اینکرز غیر مہذب انداز میں خواتین کے ساتھ باتیں کرتے ہیں جب کہ بچوں کی نشوونما کے مراکز میں خاطر خواہ انتظامات نہیں ہیں۔ اس لیے ماموند قبائل کے ایک مختصر جرگے میں یہ پابندیاں تجویز کی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت میں جرگے کا مقصد علاقے میں گھات لگا کر قتل کی وارداتوں میں اضافے پر غور و خوض کرنا تھا اور اسی بنیاد پر علاقے میں چھابڑی فروشوں کے داخلے پر پابندی کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG