رسائی کے لنکس

بلوچستان: تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے نئی فورس تشکیل


بلوچستان یونیورسٹی

بلوچستان یونیورسٹی

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یکم مارچ کو موسم سرما کی تعطیات ختم ہونے تک یہ انتظامات مکمل ہو چکے ہوں گے اور والدین کو یہ یقین دلایا جا سکے گا کہ ان کے بچے ایک پرامن ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں خصوصاً جامعات کے لیے سکیورٹی انتظامات کو سخت کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ایک خصوصی فورس تشکیل کے مراحل میں ہے۔

گزشتہ ماہ چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ملک بھر میں تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے اقدام کے مطالبات نے مزید زور پکڑا تھا جس کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے کر انھیں مزید موثر بنانے کے لیے انتظامات کیے۔

بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یکم مارچ کو موسم سرما کی تعطیات ختم ہونے تک یہ انتظامات مکمل ہو چکے ہوں گے اور والدین کو یہ یقین دلایا جا سکے گا کہ ان کے بچے ایک پرامن ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

"تقریباً 400 کے قریب لوگ ہم بھرتی کر رہے ہیں جو فورسز کے سابق اہلکار ہیں ان کو باقاعدہ طور پر تھوڑی بہت تربیت دیں گے کیونکہ ان کے پاس ضروری تربیت تو پہلے سے ہوتی ہے اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے اپنے جو گارڈز ہیں ان کو بھی ہم تربیت دے رہے ہیں۔ ہم نے کہا ہے کہ ادارے کے نام پر لائسنس جاری کریں گے پھر ان کو تین سے چار دن تک تربیت بھی دی جائے گی۔"

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے کھلنے کے بعد اکثر اداروں کے باہر سادہ کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے جب کہ کوئٹہ اور دیگر شہروں کے نجی تعلیمی اداروں کے منتظمین سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم نے سکیورٹی کے لیے کیے گئے انتظامات کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر کلیم اللہ کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے رجحان کو ختم کرنے کے لیے بھی اقدام کرے۔

"تربت میں یونیورسٹی ہے، لورالائی میں یونیورسٹی ہے، آئی ٹی یونیورسٹی، ویمن یونیورسٹی ہے، ہزاروں اسکول کالجز ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ فورس کی ضروت تو پڑے گی اور پہلے بھی فورس ہے۔ ہمیں کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ سب کو عوام کو، سیاسی جماعتوں کو حکومت کو کہ وہ اس ذہنیت کو ختم کرنے کے لیے کام کریں جس سے دہشت گردی پھیلتی ہے۔"

بلوچستان میں خواتین کی واحد یونیورسٹی 2004ء میں قائم ہوئی تھی اور جون 2013ء میں اس یونیورسٹی کی طالبات کی بس پر ہونے والے خودکش بم حملے میں کم ازکم 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں میں تشدد کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے اور ہفتہ کو ہی کوئٹہ میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم ازکم دس افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

حکام کے مطابق اتوار کو پولیس اور فرنٹیئر کور کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں 35 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا جب کہ چھاپامار کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے دو مشتبہ شدت پسند بھی مارے گئے۔

XS
SM
MD
LG