رسائی کے لنکس

بلوچستان میں شدت پسندوں کو پناہ نہیں لینے دیں گے: سکیورٹی عہدیدار

  • ستار کاکڑ

حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے بہت سے طالبان شدت پسند فرار ہو کر بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع میں روپوش ہیں جن کے خلاف فورسز کارروائی کر رہی ہے۔

پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں پورے ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بھی چھاپا مار سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

صوبائی حکام کے مطابق تازہ کارروائی میں چھ ’’دہشت گردوں‘‘ کو گرفتار کیا گیا ہے جو صوبے میں دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

شورش پسندی سے متاثرہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل بریگیڈیئر طارق محمود نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن "ضرب عضب" کی وجہ سے بہت سے طالبان شدت پسند فرار ہو کر بلوچستان کے شمال مشرقی اضلاع میں روپوش ہیں جن کے خلاف ان کی فورسز کارروائی کر رہی ہے۔

کوئٹہ میں صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بریگیڈیئر طارق محمود نے مقامی آبادیوں سے اپیل کی کہ اگر انھیں اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ سکیورٹی فورسز کو آگاہ کریں۔

"ایف سی صوبے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کر رہی ہے، ژوب ہو گیا، لورا لائی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ یہ جو علاقے ہیں ۔۔۔۔ یہ ضرب عضب کے نتیجے میں کچھ طالبان گروپ اس طرف آئے ہیں تو ہم مقامی آبادی اور مقامی انتظامیہ لیویز باقی سارے مل کر اس علاقے ہم بھرپور کارروائی کر رہے ہیں، میری صرف لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعاون کریں، سکیورٹی فورسز کو معلومات دیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ چھوٹی آبادیوں اور دیہاتوں میں شدت پسندوں کو اپنے مددگار ملتے رہے ہیں۔"

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں فرنٹیئرکور اور لیویز سرچ آپریشن کرنے میں مصروف ہیں اور ان کے بقول فی الوقت صوبے میں کہیں بھی فوجی آپریشن نہیں کیا جا رہا ہے۔

"بلوچستان کے کسی بھی علاقے میں فوجی آپریشن نہیں ہورہا اور نہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہاں جو شدت پسند ہیں، جو دہشت گرد ہیں اور لشکر ہیں ان کی اہلیت اتنی نہیں کہ ان کے خلاف فوج استعمال کرنا پڑے باوجود اس کے فوج بھی ریاست کا ایک اہم حصہ ہے اور خطرے کو دیکھ کر اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔"

انھوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں بھی چھ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر کے تخریبی کارروائیوں کا منصوبہ ناکام بنایا گیا اور ان افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔

پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں گزشتہ سال سے فوج نے طالبان شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی جس میں اب تک دو ہزار سے زائد عسکرت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG