رسائی کے لنکس

بلوچستاں میں لوڈشیڈنگ کے خلاف ہڑتال

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بلو چستان میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف کوئٹہ، پشین، چمن اور ژوب کے علاوہ کئی چھوٹے شہروں میں جمعرات کو کاروباری مراکز بند رہے ۔ ہڑتال کی اپیل پشتو نخواملی عوامی پارٹی نے کی تھی جب کہ انجمن تاجران اور زمینداروں نے اس کی حمایت کی تھی ۔

بلو چستان کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ اس موسم میں اُن کے باغات اور فصلیں تیار ہو رہی ہیں اور شدید گرمی کے باعث فصلوں کو پانی کی اشد ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بجلی نا ہونے کے باعث وہ ٹیوب ویل سے پانی نہیں حاصل کرسکتے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ صوبے میں بجلی فراہم کرنے والا سرکاری ادارہ ” کیسکو“ زمینداروں کو صر ف چارگھنٹے تک بجلی فراہم کرتا ہے ۔ زمینداروں کا موقف ہے کہ باغات اورفصلوں کو اگر پانی نہ ملا تو اُنھیں کر وڑو ں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔

دوسر ی طر ف کیسکو حکام کاکہنا ہے کہ بلو چستان کی بجلی کی طلب 1175 میگاواٹ یومیہ ہے لیکن بلو چستان کو صر ف 350 میگاواٹ بجلی مل رہی ہے کیسکو حکام کے مطابق بجلی کم ملنے کی وجہ نصیر آباد کے علاقے میں تخریبی کارروائیوں میں تباہ کیے جانے والے بجلی کے کھمبوں کی تعمیر نو کے کام میں تاخیر ہے ۔ حکا م کاکہنا ہے کہ بجلی کھمبوں کی تعمیر کا کام تقریباً ایک ہفتے میں مکمل ہو گا جس کے بعد صوبے کو مزید 250 میگاواٹ بجلی میسر ہو گی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں اس وقت دوہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کی جارہی ہے اور کیسکو حکام کے مطابق چاروں صوبوں میں پیداہو نے والی بجلی کو نیشنل گر ڈ سے ملایا جاتا ہے اور پھر ہر صوبے کو اس کی ضرور یات کے مطابق بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔کیسکو حکام کے مطابق بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لیے بلو چستان حکومت کے تعاون سے کو ئٹہ اور خضدار میں رینٹل پاور اسٹیشن قائم کر نے کے لیے اقدامات شر وع کر دیے گئے ہیں جن سے دسمبر2011تک دو سو میگاواٹ مزید بجلی حاصل ہو سکے گی۔

XS
SM
MD
LG