رسائی کے لنکس

اقوام ِ متحدہ کے مطابق، 1990ء میں پانچ برس سے کم عمر بچوں کی شرح ِاموات ایک کروڑ 27 لاکھ تھی جو 2013ء میں کم ہوکر 63 لاکھ رہ گئی ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں ننھے بچوں کی شرح ِاموات میں نمایاں کمی آتی جا رہی ہے، جس کا سبب حکومتی اقدامات اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں اب پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات کی شرح پہلے کی نسبت بہت کم ہوگئی ہے؛ اور ان ممالک میں امراٴ اور غرباٴ کے بچوں کے شرح ِاموات کے فرق میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

اقوام ِ متحدہ کے مطابق 1990ء میں پانچ برس سے کم عمر بچوں کی شرح ِاموات ایک کروڑ 27 لاکھ تھی جو 1913ء میں کم ہو کر 63 لاکھ رہ گئی۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی سے منسلک ایک ڈاکٹر ایرن بینڈوٹ کا کہنا ہے کہ بچوں کی شرح ِ اموات میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں، جن میں سے چند ایک ملیریا اور اسہال جیسی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہے۔

ڈاکٹر ایرن بینڈوٹ کے مطابق، ’ہم ترقی پذیر اور انتہائی غریب ممالک کی بات کر رہے ہیں جہاں روزانہ کی فی کس آمدنی ایک یا دو ڈالر ہوتی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ ان ملکوں میں بھی بچوں کی شرح ِاموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ بچوں کی صحت کے ضمن میں ایک مثبت اور حوصلہ افزاء قدم ہے‘۔

ڈاکٹر ایرن بینڈوٹ نے سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ایک تحقیقی مطالعاتی رپورٹ پر کام کیا جس میں 54 ممالک میں ننھے بچوں کی شرح ِاموات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔

اِس تحقیقی جائزے میں دنیا بھر سے 12 لاکھ خواتین کی طرف سے سوالنامے کے جوابوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس کے بعد، تحقیق دانوں نے 2000ء سے 2007ء تک بچوں کی شرح ِ اموات کے ڈیٹا کا 2008ء سے 2012ء کے اعداد و شمار سے موازنہ کیا۔

تحقیق دانوں کو پتا چلا کہ غریب گھرانوں میں بچوں کی شرح ِ اموات کی شرح ایک ہزار بچوں میں 4.3 تھی، متوسط طبقے کے بچوں میں یہ شرح ہزار میں سے 3.36 جبکہ امیر گھرانوں میں یہ شرح 2.06 تھی۔

ایسے ممالک جہاں غریب اور امیر گھرانوں میں بچوں کی شرح ِاموات میں فرق نمایاں طور پر کم دیکھا گیا، بنگلہ دیش، بولیویا، آئیوری کوسٹ، مصر اور گھانا شامل ہیں۔

یہ تحقیق طبی جریدے ’پیڈیاٹرکس‘ میں شائع کی گئی۔

XS
SM
MD
LG