رسائی کے لنکس

حکمت یار کی واپسی امن کے لیے ''سودمند'' ثابت ہو سکتی ہے: کننگھم


'افغان سروس' کو ایک انٹرویو میں، افغانستان میں سابق امریکی سفیر نے اِس امید کا اظہار کیا کہ ''عین ممکن ہے کہ تنازع کے خاتمے اور افغان حکومت کے ساتھ سمجھوتے تک پہنچنے کے حوالے سے، حکمت یار دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوں''

افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر، جیمز بلیئر کننگھم نے کہا ہے کہ حزب اسلامی کے سربراہ، گلبدین حکمت یار کی کابل واپسی ''امن کے لیے ایک اچھا قدم ثابت ہوسکتا ہے''۔

اِس ضمن، 'وائس آف امریکہ' کی افغان سروس کے 'آشنا ٹی وی' کی زیلہ نصری کو اتوار کے روز 'ایٹلانٹک کونسل' میں دیے گئے ایک انٹرویو میں، اُنھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ''عین ممکن ہے کہ تنازع کے خاتمے اور افغان حکومت کے ساتھ سمجھوتے تک پہنچنے کے حوالے سے، حکمت یار دوسروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوں''۔

سفیر کننگھم نے افغانستان کے بارے میں چند امریکی پالیسیوں کی بھی نشاندہی کی اور طالبان کو مدد فراہم کرنے کی روس اور ایران کی امداد کا حوالہ دیا۔

یہ معلوم کرنے پر کہ حکمت یار کی واپسی اور افغان میڈیا کے بارے میں اُن کے چند متنازع بیانات کے بارے میں وہ کیا کہنا چاہیں گے، اس ضمن میں ایمبسیڈر کننگھم نے کہا کہ اس بارے میں باقی افغانوں کی طرح اُن کا رد عمل بھی ''ملاجلا'' ہے۔

اُن کے بقول ''میری تعیناتی کے آخری ایام میں، چند سالوں کے دوران، حکمت یار کے کچھ حملوں کے نتیجے میں امریکی عملےکا جانی نقصان واقع ہوا۔ اصولی طور پر آپ اپنے دوستوں کے ساتھ امن کا سمجھوتا نہیں کرتے، اور اُن کے ساتھ بھی امن کی کوشش نہیں کرتے جو اچھے چل رہے ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ افغانستان میں یہ بات متنازع ہے، اور یہ معاملہ قابل فہم ہے۔ خانہ جنگی کو ختم کرنا مشکل امر اور امن لانا مشکل کام ہے۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے تمام تر مقامات پر نظر ڈالی جائے تو وہاں پر بھی اس قسم کی کوششیں ہوتی ہیں''۔

اس لیے، اُنھوں نے کہا کہ، ''توازن لانے کی کوشش کرنا اچھا عمل ہے۔ اُن کی واپسی کے سلسلے میں امریکی حکومت نے افغان حکومت کی درست طور پر مدد کی''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''میں نے میڈیا کے بارے میں اُن کے بیانات دیکھے ہیں، یہی وہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن، زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ تنازع کے خاتمے کے لیے حکومت سے مل کر امن کی بحالی کے لیے وہ دوسروں کا اکٹھا کرنے میں اُن کے بس میں جو کچھ بھی ہوا وہ کریں گے''۔

اُن سے پوچھا گیا کہ ملک کی سکیورٹی اور بدعنوانی کے حوالے سے ایک نگران امریکی ادارے کی نئی رپورٹ کے نتائج پریشان کُن ہیں؛ اور کیا ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں اپنی پالیسیوں کی جانچ پڑتال کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ''میں نہیں سمجھتا کہ جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پالیسی کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور معائنہ کاروں کو موصول ہونے والے نتائج نئے نہیں''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG