رسائی کے لنکس

ذیا بیطس ٹائپ ٹو کے علاج میں پیش رفت

  • کیرل پیئرسن
  • آمنہ خان

ذیا بیطس ٹائپ ٹو کے علاج میں پیش رفت

ذیا بیطس ٹائپ ٹو کے علاج میں پیش رفت

ذیابیطس کی بیماری امیر اور غریب میں تفریق نہیں کرتی۔لیکن صحت سے متعلق عالمی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے اموات میں سے 80 فی صد ترقی پذیر ملکوں میں واقع ہوتی ہیں۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں عمر اور موٹاپے کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے۔ اور اگر خاندان میں کسی اور کو بھی یہی بیماری ہو تو اس مرض کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ سان فرانسسکو میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے منسلک ڈاکٹر آئرا گولڈفائن کی تحقیق میں ذیابیطس کے مریضوں کے علاوہ کچھ وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں اس بیماری کی شکایت نہیں۔

ان کا کہناہے کہ ذیابیطس ایک ایسا مہلک مرض ہے جو دنیا کے ہر ملک میں بڑھ رہا ہے۔ اور ہمیں اس کی وجوہات معلوم کرنی چاہئیں تاکہ ہم اس بیماری کے لیے بہتر علاج دریافت کر سکیں۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں کو اپنے خون میں شوگر کی مقدار پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔

ڈاکٹر گولڈ فائین اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق سے کچھ نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جسم میں قدرتی طور پر موجود ایک ایسے کیمیائی مادے کی نشاندہی کی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں میں کچھ مختلف ہوتا ہے۔

اس مادے کو بنانے والا جین HMGA-1 کہلاتا ہے۔ یہ مادہ اہم ہے کیونکہ یہ خون میں موجود گلوکوز سے توانائی پیدا کرنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔

گولڈ فائن اس تحقیقی ٹیم میں شامل تھے جس نے اٹلی میں ذیابیطس کے کچھ مریضوں میں HMGA-1 جین کی مختلف شکل کی نشاندہی کی تھی۔ ماہرین نے پھر یہی نتائج امریکی اور فرانسیسی مریضوں سے بھی حاصل کیےجو تمام سفید فام تھے۔ انہیں معلوم ہوا کہ ٹائی ٹو ذیابیطس کے 10 فی صد مریضوں میں یہ جین بہت مختلف ہے۔

بروقت علاج کے ساتھ روز مرہ رہن سہن میں کچھ تبدیلیاں بھی ضروری ہیں جس میں ورزش، وزن پر قابو رکھنا اور خون میں شوگر کی مقدار پر نظر رکھنا شامل ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان اقدامات کی مدد سے کچھ لوگ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مرض سے اپنی حفاظت کر سکتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اس مرض سے منسلک جینز کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے ڈاکٹر اپنے مریضوں کا بہتر علاج کر سکیں گے اور شایدکسی دن جینز کی یہ کمزوری دور کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں۔

اس تحقیق کی رپورٹ امریکہ کے ایک طبی جریدے امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ۔

XS
SM
MD
LG