رسائی کے لنکس

یورو ممالک میں بنکوں پر سخت کنٹرول کی ضرورت

  • واشنگٹن

یورو

یورو

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری بنکنگ یونین بھی یورپ کی مشکلات سے دو چار معیشتوں کے انحطاط کو روکنے اور مستقبل میں اِس قسم کے بحرانوں کا سد باب کرنے میں کامیاب نہیں ہو گی

جمعرات کی شب کی سربراہ کانفرنس میں یورپ کے لیڈروں نے اپنی معیشتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم لیکن جزوی اقدام کیا۔ جو تبدیلیاں کی جا رہی ہیں وہ بڑی مشکل ہیں۔

یورپ اور دنیا پر اِن تبدیلیوں کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس بارے میں لندن سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار الپسین بتاتے ہیں کہ برسلز میں برِ اعظم یورپ کے ہر حصے کے لیڈر جمع ہوئے ۔ ہر ایک نے اپنا اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ۔ آخر میں اُنھوں نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ جن ملکوں میں یورو استعمال کیا جاتا ہے، یعنی بنکنگ یونین کے ملکوں میں بنکوں پر زیادہ سخت کنٹرول ہونا چاہیئے۔

یورپی یونین کونسل کے صدر Herman van Rompuy نے کہا ہے کہ جِس چیز پر فوری توجہ دی جا رہی ہے وہ نگرانی کے واحد نظام کا قیام ہے تا کہ بنکنگ میں خطرات سرحدوں کے پار نہ پھیلنے پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج رات یورپی کونسل نے فوری کارروائی پر زور دیا۔
لیکن بعض لوگوں کے لیے یہ اقدام اور بھی جلدی کیا جانا چاہیئے ۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اگلے سال کے شروع میں عمل در آمد کی حتمی تاریخ مقرر کر دی جائے۔

اور بعض ماہرین کہتے ہیں کہ پوری بنکنگ یونین بھی یورپ کی مشکلات سے دوچار معیشتوں کے انحطاط کو روکنے اور مستقبل میں اس قسم کے بحرانوں کا سد باب کرنے میں کامیاب نہیں ہو گی ۔ تحقیقی ادارے Bruegel European کے ڈپٹی ڈائریکٹر Guntram Wolff کہتے ہیں کہ اصل بات جس پر اب بحث ہونی چاہیئے وہ یہ ہے کہ صرف بنکنگ یونین کے بارے میں نہیں، بلکہ مالی وسائل کے بارے میں ہونی چاہیئے جو یورو زون کی سطح قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

اِس کا مطلب ہے مالیاتی یونین، یعنی ایسا بجٹ جِس کےلیے فنڈز یورو کے ملک فراہم کریں تا کہ ایسے بنکوں اور حکومتوں کو جو مشکلات کا شکار ہیں ضرورت کے مطابق مدد دی جا سکے اور اس انتظام کے بارے میں مذاکرات کے لیے اور زیادہ وقت کی ضرورت ہو گی۔

برسلز میں ایک حالیہ کانفرنس میں، یورپی لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انھوں اس بحران کو ختم کرنے کے لیے فوری طور پر اور کافی اقدامات نہیں کیے ۔ یورپین ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی Bernadette Segol جیسے ناقدین نے زور دیا کہ معیشت میں جان ڈالنے کے لیے زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں اور بحران سے متاثر ہونے والے یورپ کے لوگوں کی پریشانیوں کا زیادہ شدت سے احساس کیا جائے۔ اُن کے الفاظ میں :’ہمیں اپنی راہ بدلنی ہوگی۔اب تک جو اقدامات کیے گئےہیں وہ کارگر نہیں ہوئے ہیں ، اور وہ بہت غیر منصفانہ ہیں۔ یورپ میں عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اس رجحان کو تبدیل کرنا ہو گا‘۔

تقریر کرنے والوں کی میز پر ان کے نزدیک ہی یورپی کمیشن کے صدر Jose Manual Barroso بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اقتصادی ترقی ضروری ہے لیکن انھوں نے اقتصادی مشکلات میں گرفتار ملکوں کو اپنی معیشت کی بحالی کے لیے اور زیادہ قرضے لینے کی اجازت دینے سے اختلاف کیا ۔ اُنھوں نے کہا کہ بہت زیادہ قرضوں سے زیادہ سماج دشمن چیز کوئی اور نہیں ہو سکتی ۔ ہر وہ یورو جو قرض کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے، وہ صحتِ عامہ، تعلیم، ضرورت مندوں کی امداد کے لیے دستیاب نہیں ہوتا، نہ صرف اس نسل کے لیے، بلکہ مستقبل کی نسلیں بھی اس سے محروم ہو جاتی ہیں۔

اگرچہ اس سربراہ کانفرنس میں بیشتر توجہ یورپ کے مسائل کے حل پر رہی، لیکن امریکن چیمبر آف کامرس اِن یورپ کے Mikael Hagstrom نے کہا کہ اس کوشش کے اثرات باقی دنیا پر بھی پڑیں گے۔ اُن کے الفاظ میں: ’اگر ہم یورپ کو متحد کر سکیں اور اس کی رگوں میں موجود رکاوٹوں کو دور کر سکیں، تو پھر ہم دنیا میں G20 کے ملکوں کے ساتھ بھی زیادہ بہتر رابطہ قائم کر سکیں گے اور G20 کی دنیا کو ساتھ لے کر چل سکیں گے‘۔

لیکن، کئی برسوں سےجاری بحران کے بعد بھی، ابھی بہت سے مذاکرات ہونے ضروری ہیں تا کہ یورپ موئثر انداز سے اپنے مسائل پر توجہ دے سکے، اپنے عوام کا بوجھ ہلکا کر سکے اور عالمی معیشت میں اپنا کردار بحال کر سکے۔
XS
SM
MD
LG