رسائی کے لنکس

امریکہ کے ایک بڑے اسٹاک ایکس چینج نے گذشتہ ماہ فیس بک کے شیئرز سرمایہ کاری کے لیے پیش کیے جانے کے موقع پر پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی پر معذرت کرتے ہوئے نقصانات کی تلافی کے لیے چار کروڑ ڈالر ادا کرنے کی پیش کش کی ہے۔

فیس بک کے حصص فروخت کے لیے پہلی بار پیش کیے جانے کے وقت سرمایہ کاروں کی کیثر تعداد کے باعث نیویارک کی نیس ڈیک ایکس چینج کا کمپیوٹر نظام پہلے نصف گھنٹے کے دوران شیئرز کی حقیقی قیمت سامنے لانے میں ناکام رہا اور بہت سے سرمایہ کاروں کا کہناہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا خرید یا فروخت سے متعلق ان کے آرڈرز پر عمل درآمد کیا جارہاہے یا نہیں۔

نیس ڈیک کے سربراہ رابرٹ گیری فیلڈ کا کہناہے کہ ہمیں اس دوران ناکامی کاسامنا کرنا پڑا ۔

بعض بروکرز اور حریف اسٹاک ایکس چینجز کا کہناہے کہ نیس ڈیک نے 18 مئی کو اس صورت کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے چار کروڑ ڈالر کی پیش کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ 10 کروڑ سے 20 کروڑ ڈالرکے درمیان ہے۔

چونکہ دنیا بھر میں فیس بک کے صارفین کی تعداد 90 کروڑ کے لگ بھگ ہے ، اس لیے بہت سے سرمایہ کاروں کو شیئر کی 38 ڈالر کی تعارفی قیمت بہت پرکشش لگی۔

فروخت کے آغاز کے پہلے ہی گھنٹے میں فیس بک کے شیئر کی قیمت 45 ڈالر تک پہنچ گئی۔ لیکن اس روز کاروبار کے اختتام پر اس کی قیمت میں ہونے والا اضافہ صرف 23 سینٹ رہا۔

اس کے بعد فیس بک کے شیئرز تیزی سے گرنے شروع ہوئے اور جمعرات 7 جون کو یہ شیئرز 27 ڈالر کی قیمت پر دستیاب تھے۔

XS
SM
MD
LG