رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ طالبان سربراہ پر پابندی عائد کرے: افغان صدر


صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

طالبان کے ایک سابق رکن اکبر آغا نے متنبہ کیا ہے کہ ہیبت اللہ کا نام پابندیوں والی فہرست میں شامل کیے جانے سے مزید خون خرابہ ہوگا اور افغان جنگ طویل ہو جائے گی۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کو ان افراد کی فہرست میں شامل کرے جن پر سفری اور مالی پابندیوں کے علاوہ اسلحے کی خرید و فروخت پر بھی قدغن ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ طالبان کو امن مذاکرات میں شامل کرنے سے متعلق صدر اشرف غنی کے سخت ہوتے ہوئے موقف کی عکاسی ہے جس سے عسکریت پسندی میں اضافے کا امکان ہو گا۔

طالبان ایک عرصے سے یہ کہتے آئے ہیں کہ اس سے قبل کہ وہ کابل کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل ہوں، ان کے سینیئر راہنماؤں کے نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے خارج کیے جائیں۔

صدر غنی سے منسوب ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ دہشت گردوں بشمول طالبان کے رہنما ملا ہبت اللہ کا نام پابندی (کے مرتکب افراد کی ) فہرست میں شامل کرے۔"

یہ بات انھوں نے اقوام متحدہ کی طرف سے پابندی عائد کرنے والی ایک کمیٹی کے وفد سے کابل میں ملاقات کے دوران کہی۔

اقوام متحدہ کے یہ ارکان افغانستان کے دورے پر ہیں جہاں وہ اس ملک میں امن و استحکام کے فروغ میں معاونت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ملا ہبت اللہ (فائل فوٹو)

ملا ہبت اللہ (فائل فوٹو)

دریں اثناء طالبان کے ایک سابق رکن اکبر آغا نے متنبہ کیا ہے کہ ہبت اللہ کا نام پابندیوں والی فہرست میں شامل کیے جانے سے مزید خون خرابہ ہو گا اور افغان جنگ طویل ہو جائے گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "حکومت اور طالبان دونوں کو ہی ایسی پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے جو ان کے درمیان امن مذاکرات کی راہ متعین کرے نا کہ جنگ کو پیچیدہ اور طویل بنائے۔"

رواں سال مئی میں ملا اختر منصور کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت ملا ہیت اللہ کے ہاتھ میں آنے سے خاص طور پر افغانستان میں عسکریت پسندی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی فوج کے ایک اندازے کے مطابق 407 افغان اضلاع میں سے 258 میں حکومت کی عملداری ہے جب کہ 33 پر طالبان کا تسلط ہے اور 116 اضلاع ایسے ہیں جہاں یہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے وفد نے صدر غنی کو یقین دلایا کہ وہ عسکریت پسند گروپ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کا نام پابندیوں کی فہرست سے خارج کروانے میں معاونت کریں گے۔

حال ہی میں افغان حکومت اور گلبدین حکمت یار کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت یہ عسکریت پسند گروپ تشدد کا راستہ ترک کرے گا جس کے عوض حکمت یار پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کی جائیں گی اور وہ برسوں روپوش رہنے کے بعد افغان سیاسی عمل میں حصہ لے سکیں گے۔

XS
SM
MD
LG