رسائی کے لنکس

انتخابی شکست، ہولاں نے نیا وزیر اعظم نامزد کردیا


نامزد وزیر اعظم

نامزد وزیر اعظم

اُن کی حکومت انتہائی غیر مقبول ہو چکی ہے، جس کا باعث فرانس کی کمزور ہوتی ہوئی معیشت، بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور متعدد افراد کا گرتا ہوا معیار زندگی بتایا جاتا ہے

فرانس کے صدر فرانسواں ہولاں نے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم کو تبدیل کردیا ہے، جس سے ایک ہی روز قبل حکمراں سوشلسٹ پارٹی کو ملک بھر میں منعقد ہونے والے میونسپل انتخابات میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فرانس کے رہنما نے پیر کے دِن ملک کے مقبول وزیر داخلہ، مینوئل والس کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا، جو وزیر اعظم ژاں مارک اَرو کی جگہ لیں گے، جو انتخابی ناکامی کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں، فرانس بھر کے ووٹروں نے سوشلسٹ امیدواروں کو مسترد کر دیا ہے۔ سنہ 2012میں مسٹر ہولاں کے منتخب ہونے کے بعد ووٹنگ میں پارٹی کو ملنے والی یہ سخت شکست تھی۔

اُن کی حکومت انتہائی غیر معروف ہو چکی ہے، جس کا باعث فرانس کی کمزور ہوتی ہوئی معیشت، بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور متعدد افراد کا گرتا ہوا معیار زندگی بتایا جاتا ہے۔

ملک کی دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی اپوزیشن پارٹی کے امیدواروں نے سوشلسٹ پارٹی کو شکست دی ہے، اور 155 قصبوں اور شہروں میں سوشلسٹ پارٹی نے اپنا کنٹرول کھو دیا ہے؛ جب کہ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ’ایف این‘پارٹی نے 11 نشستیں جیتی ہیں۔

’ایف این‘ پارٹی پناہ گزینوں کی کھل کر مخالفت کرنے کی بنیاد پر سیاسی طاقت بن کر اُبھری ہے اور 1500 سے زائد میونسپل عہدوں پر جیتی ہے، جو اس پارٹی کی اب تک کی سب سے بڑی فتح خیال کی جا رہی ہے۔ فرانس کی کلیدی مخالف پارٹی ’یونین فور پوپولر مومنٹ‘ نے کئی اہم قصبوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جنھیں کبھی سوشلسٹوں کا گڑھ خیال کیا جاتا تھا۔
XS
SM
MD
LG