رسائی کے لنکس

نیوکلیئر مذاکرات: عالمی معائنہ کاروں کا دورہ ایران


فائل

فائل

ایجنسی کی جانب سے اس دورے سے متعلق اس سے قبل ذرائع ابلاغ کو کچھ نہیں بتایا گیا تھا اور نہ ہی پیر کو جاری کیے جانے والے بیان میں اس دورے کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے ایک اعلیٰ معائنہ کار نے ایران کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہے جس کے دوران فریقین کے درمیان "غیر رسمی" بات چیت ہوئی ہے۔

'آئی اے ای اے' کے ترجمان کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایجنسی اور ایران کے درمیان ہونے والے معمول کے رابطوں کے سلسلے میں ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ٹیرو وجورانتا نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تہران کا دورہ کیا ہے۔

ایجنسی کی جانب سے اس دورے سے متعلق اس سے قبل ذرائع ابلاغ کو کچھ نہیں بتایا گیا تھا اور نہ ہی پیر کو جاری کیے جانے والے بیان میں اس دورے کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

ای میل کے ذریعے صحافیوں کو بھیجنے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نے دورے کے دوران ایرانی حکام کے ساتھ جوہری معاملات پر غیر رسمی بات چیت کی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں 'آئی اے ای اے' کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق ادارے کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز کو رپورٹ پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت ایران نے 'آئی اے ای اے' کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک پہلے سے زیادہ رسائی دینے اور اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

معاہدے کے تحت ایران کو 15 مئی تک اپنی مستقبل کی جوہری سرگرمیوں اور اس کے لیے درکار مواد سے متعلق عالمی ادارے کو مطلع کرنا ہے جس پر 'آئی اے ای اے' اور ایرانی حکام کی بات چیت جاری ہے۔

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو شبہ ہے کہ ایران سول جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے تہران حکومت اور چھ عالمی طاقتوں – امریکہ، برطانیہ، چین، روس، فرانس اور جرمنی - کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
XS
SM
MD
LG