رسائی کے لنکس

یورپ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

  • ہنری ویل
  • ندیم یعقوب

یورپ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

یورپ میں داخل ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ہر روز تقریباً تین سو افرادغیر قانونی طور پرترکی اور یونان کی سرحد عبور کر کےیورپ میں داخل ہورہےہیں۔ آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب سجائے،ایک بڑی رقم خرچ کرکے یورپ میں اس طرح داخل ہونے کی کوشش میں بہت سے افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس کے باجود حالیہ کچھ ماہ کے دوران یورپ میں غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

عبدالصمد اور نبیر حماد کو بنگلہ دیش سے شروع ہونے والا چھ ہزار کلومیٹر کا سفر افسانہ لگتا ہے۔ آخر کار وہ کسی نہ کسی طرح یونان پہنچے میں کامیاب ہوہی گئے ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم بھارت، پاکستان ، ایران اور ترکی سے ہوتے ہوئے 20روز میں یہاں پہنچے ہیں۔یہ بہت مشکل سفر تھا اور ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔

جیسے انہوں نے یونان کی سرحد پار کی عبدالصمد اور حماد کو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر غیر قانونی تارکین وطن کے قید خانے میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رہا کر دیا گیا۔ وہ دونوں ہر لحاظ سے خوش قسمت ہیں۔

دستاویزات کے بغیر تقریباً تما م تارکین وطن ترکی اور یونان کے درمیان دریائےایوروس کو عبور کر کے یورپ میں داخل ہوتے ہیں۔یہاں غیرقانونی افراد کو روکنے کے لئے سرحدی گارڈز ناکافی ہیں۔ یونان پہنچ گئے تو پھر وہ یورپی یونین میں ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق یہ سرحد کافی خطرناک ہے۔ یہاں ہر سال سینکڑوں افراد اپنی جانیں گنواتے ہیں۔ اور ہلاک ہونے والے بہت سے مسلمان تارکین وطن کو سرحد کے قریب واقع قبرستان میں دفن کردیا جاتا ہے۔ یہاں پر دفن لوگوں کی شناخت کسی کو معلوم نہیں۔ اور ان کے خاندان ان کی قسمت کے بارے میں بے خبر ہیں۔ ایک افغان پناہ گزین واجد شریفی نے چار سال قبل دریائے Evros ایوروس پار کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہاں پر دفن لوگوں نے یورپ آنے اور بہتر مستقبل کا خواب دیکھا تھا، مگر یہ لوگ بارودی سرنگوں پر قدم رکھنے یا دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے ۔

ایتھنز میں ایک پولیس اسٹیشن میں غیرقانونی پناہ گزینوں کو ریڈ کارڈز دیے جاتے ہیں۔ اس کارڈ کی بنا پر وہ اپنے کاغذات کی تکمیل تک یونان میں رہ سکتے ہیں، لیکن انہیں ہر ماہ اپنے کارڈ کی تجدید کروانا ہوتی ہے۔

عامر حسینی ایک ایرانی پناہ گزین ہے اور اس گروہ میں شامل ہے جنہوں نے ایتھنز میں احتجاجی کیمپ شروع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم دنیا کی تمام حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری آواز سنیں۔ کیا آپ انتظار کر رہے ہیں کہ ہمارے چھ سات سال کے بچے اپنے منہ سی کراحتجاج کریں تو پھر آپ ہماری آواز سنیں گے۔

بہت سے تارکین وطن ایتھنز کی سڑکوںٕ پر زندہ رہنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں، جہاں شر پسند عناصر اکثر ان کی پٹائی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کا مہاجرین کا ادارہ ان حالات کو بحران قرار دیتا ہےا ور یونانی حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے عمل میں اصلاحات کرے۔ مگر جب تک ایسا نہیں ہوتا، بہت سے تارکین وطن کے یورپ میں نئی زندگی کا خواب دیکھتے ہوئے یہاں یونان کی قدیم سڑکوں پر آخری سانسیں لیتے رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG