رسائی کے لنکس

بھارت نے پاکستان سے بات چیت پر 'مشروط' آمادگی ظاہر کر دی


ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ویکاس سواروپ (فائل فوٹو)

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ ویکاس سواروپ (فائل فوٹو)

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان ویکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ "اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان سرحد پار سے بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی معاونت بند کرے۔"

بھارت نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تمام متعلقہ معاملات پر بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں پاکستان کی پیشکش کا خیرمقدم کرے گا لیکن ساتھ ہی اس نے بعض شرائط کا بھی اعلان کیا ہے۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان ویکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ "اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان سرحد پار سے بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کی معاونت بند کرے۔"

انھوں نے یہ بیان پاکستان کے مشیر خارجہ کی طرف سے اس پیشکش کے جواب میں دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں و کشمیر پر بات کرنا چاہتا ہے۔

ترجمان سواروپ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کہ مذاکرات شروع ہوں پاکستان کو "سرحد پار سے دہشت گردی اور تشدد کو بڑھاوا نہ دینے، حافظ سعید اور سید صلاح الدین جیسے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گردوں کی حمایت (ترک کرنے) اور ممبئی حملے کی مقدمے اور پٹھانکوٹ واقعے کی تحقیقات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔"

کشمیر دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے مابین شروع ہی سے متنازع ہے جس کا ایک حصہ پاکستان اور ایک بھارت کے زیر انتظام ہے۔

بھارتی کشمیر میں گزشتہ ماہ ایک علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں موت اور پھر وہاں ہونے والے مظاہروں میں 50 سے زائد افراد کی ہلاکت سے صورتحال پر پاکستان اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا کہہ چکا ہے۔

لیکن بھارت نے اس اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے پاکستانی تشویش کو مسترد کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ اسلام آباد بھارتی کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔

پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور گزشتہ جمعہ کو ہی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ وہ کشمیر پر بھارت سے بات چیت کرے گا۔

XS
SM
MD
LG