رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: ہڑتال کا سلسلہ جاری

  • یوسف جمیل

بھارت کے زیرِ انتظام وادی کشمیر کا علاقہ سنیچر کا دِن بھی ہڑتالوں کی نذر ہوگیا جِس دوران، وکلا، ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیتے ہوئے استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے احتجاج کی تائید میں نعرے لگائے۔

اگرچہ، وکلا کئی روز پہلے کشمیر بار کونسل کے صدر میاں عبد القیوم اور جنرل سیکریٹری غلام نبی شاہین کی گرفتاری کے علاوہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربندیوں کے خلاف احتجاجی ہڑتال پر ہیں، سنیچر کو اُنھوں نے عدالتوں کے باہر مظاہرے کیے۔

ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے نے سری نگر کے حکومتی میڈیکل کالج اور اُس سے وابستہ اسپتالوں کے احاطوں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

اگرچہ، پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مقیم متحدہ جہاد کونسل کے سید صلاح الدین نے بھارتی کشمیر کی علیحدگی پسند قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ احتجاجی پروگرام کو مرتب کرتے ہوئے لوگوں کی مشکلات کا خیال رکھیں جِن کا سامنا اُنھیں بار بار کی ہڑتالوں کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، حریت کانفرنس گیلانی نے ایک ہفتے کے لیے احتجاجی ہڑتالوں اور مظاہروں کا ایک نیا کیلنڈر جاری کردیاہے۔

حریت کانفرنس گیلانی کے بقول، جہاں سمیناروں کے انعقاد اور قلم کے استعمال پر قدغن ہو وہاں مزاحمت کا مؤثر ذریعہ ہڑتال اور احتجاج ہی ہوا کرتا ہے۔

سنیچر کو بعض مقامات پر نوجوانوں کی ٹولیاں سید صلاح الدین کے بیان پر اظہارِ ناراضگی کرنے کے لیے سڑکوں پر نعرے بازی کرتی ہوئی نظر آئیں۔

دریں اثنا، پولیس نے سری نگر کے قدیمی شہر میں فلیگ مارچ کیا جہاں کئی دِن سے نافظ کرفیو کو پہلے ہٹالیا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق، کپُواڑہ اور پُلواما قصبوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد پھر کرفیو نافذ کرد یا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG