رسائی کے لنکس

وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سال جون سے اب تک 10ہزار انٹیلی جنس آپریشن کیے جا چکے ہیں جن میں 36ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک دھماکے کے بعد سیکورٹی ایجنسیز کی مہینوں کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے‘

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ’ٹی ٹوئنٹی‘ نہیں، بلکہ بہت صبر آزما اور طویل جنگ ہے۔ گزشتہ سال جون سے اب تک 10ہزار انٹیلی جنس آپریشن کیے جا چکے ہیں، جن میں 36ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوچکی ہیں۔

چوہدری نثار پیر کو کراچی میں سیاسی اور عسکری حکام سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو لوگ پاکستان سے آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے ہیں، ان میں سے کچھ مارے گئے کچھ سرحد پار فرار ہوگئے جبکہ کچھ چھپے ہوئے ہیں، انہیں بھی جلد ڈھونڈ نکالیں گے‘۔

بقول اُن کے، ’سانحہ صفورا سے متعلق کچھ گرفتاریاں کی ہیں۔ لیکن، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہی اصل کردار ہیں۔ تاہم، ملزمان سے ہونے والی تفتیش میں پیش رفت ہو رہی ہے۔‘

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ’جو 36 ہزار سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں ان کی میڈیا میں تشہیر نہیں کی جاتی۔ ایک دھماکے کے بعد سیکورٹی ایجنسیز کی مہینوں کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد 3 ہزار انٹیلی جنس بیس آپریشن کئے گئے جس کی وجہ سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی ہوئی ہے۔‘

اپنی کراچی آمد سے متعلق ان کا کہنا تھا ’گذشتہ دنوں کراچی میں صفورا چورنگی پر دلخراش واقعہ پیش آیا۔ میرا یہاں آنے کا مقصد اسماعیلی کمیونٹی سے اظہارِ ہمدردی اور صوبائی حکومت سے تفصیلی تبادلہٴخیال ہے۔ توقع ہے کہ سانحے کے ذمے دار جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔‘

XS
SM
MD
LG