رسائی کے لنکس

بقول اُن کے، ’ہمارے مذاکرات کار اِسی راہ (بات چیت پر) گامزن ہیں۔ اور اگر دوسرا فریق اِسی فریم ورک کی پابندی کرے اور ایرانی قوم کے حقوق اور ہمارے قومی مفادات کی حرمت کا خیال رکھا جائے، اور مزید مطالبات سامنے نہ رکھے جائیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ اِس معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے‘

ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایران اور دنیا کے اہم ملکوں کے درمیان حتمی جوہری سمجھوتا اِسی ماہ ’ہو سکتا ہے‘، ماسوائے اِس بات کے کہ آئندہ دِنوں کے دوران کوئی نئے مسائل نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔

ہفتے کو تہران میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، صدر حسن روحانی نے کہا کہ ’طویل مدت سے جاری مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، ایسے میں جب سمجھوتے کو مکمل کرنے کے لیے 30 جون کی حتمی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے۔ تاہم، چند مسائل اب بھی درپیش ہیں‘۔
بقول اُن کے، ’ہمارے مذاکرات کار اسی راہ (بات چیت پر) گامزن ہیں۔ اور اگر دوسرا فریق اِسی فریم ورک کی پابندی کرے اور ایرانی قوم کے حقوق اور ہمارے قومی مفادات کی حرمت کا خیال رکھا جائے، اور مزید مطالبات سامنے نہ رکھے جائیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ اِس معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے‘۔

کلیدی معاملہ جس کی جانب امریکہ اور یورپی اتحادی دھیان مبذول کراتے رہے ہیں، وہ ہے ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ۔ مسٹر روحانی نے کہا کہ ایران معائنے کی اجازت نہیں دے گا، جو اُس کے ریاستی رازوں کے لیے خطرے کا باعث بنے گا‘۔

روحانی کے بقول،’ایران اس بات کی بالکل اجازت نہیں دے گا، جس سے اُس کے ملکی راز غیرملکیوں کے ہاتھ لگ جائیں۔ چاہے یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (یا نام نہاد ’اضافی ضابطے‘) یا کسی اور سمجھوتے کے تحت ہو۔ یہ پکی بات ہے۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘۔

عالمی طاقتیں جو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے بارے میں سمجھوتا طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُن میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ آئندہ نیوکلیئر کی سطح کو محدود کرنے کے بدلے، ایران کو بین الاقوامی تعزیرات اٹھائے جانے کی توقع ہے، جن کے باعث اُس کی معیشت کو ذق پہنچی ہے۔

امریکی اور فرانسیسی سفارت کاروں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ بہت سخت اقدامات تک تسلیم کرے، جن میں فوجی تنصیبات کا معائنہ اور ساتھ ہی ساتھ جوہری معائنہ بھی شامل ہے، جس پر صرف دو گھنٹے کے نوٹس پر عمل ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG