رسائی کے لنکس

امریکہ: داعش کے چار سرغنوں کے سر کی قیمت مقرر


فائل

فائل

اپریل سنہ 2013 میں، داعش کے موجودہ سرغنے، ابو بکر البغدادی، جنھیں ابو دعا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، عام اعلان کیا کہ عراق میں دولت اسلامیہ ’آئی ایس آئی ایل‘ کے نام سے سرگرم عمل ہے۔ تب سے، داعش نے برملا کہا ہے کہ وہی اب اسامہ بن لادن کی اصل وراث ہے

امریکی محکمہ خارجہ کے ’رِوارڈز فور جسٹس پروگرام‘ نے ’دولت الاسلامیہ فی العراق والشام‘ کے دہشت گرد گروپ کے چار کلیدی سرغنوں کے سرکی قیمت مقرر کرتے ہوئے، اُن کے بارے میں اطلاع دینے پر انعام کا اعلان کیا ہے۔

محکمہٴخارجہ نے عبدالرحمٰن مصفطیٰ القدولی کے سر کی قیمت 70 لاکھ ڈالر، ابو محمد العدنانی اور ترخان تیوموراوچ بتراشولی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر؛ جب کہ طارق بن الطھار بن الفلیح العوانی الہرزی کے سر کی قیمت 30 لاکھ ڈالر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم سنہ 2004 میں عراق کی القاعدہ کے نام سے شروع ہوئی، جب کہ بعدازاں اس کا نام ’دولت اسلامیہ فی العراق‘ پڑا۔ تب سے، عراق اور شام میں لڑنے کے لیے داعش نے دنیا بھر سے ہزاروں افراد کو بھرتی کیا، جہاں دولت اسلامیہ کے ارکان کھلے عام اور باضابطہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، جن میں اجتماعی پھانسیاں دینا، امتیاز کی بنیاد پر افراد اور پوری برادریوں پر مظالم ڈھانا، بچوں کو قتل کرنا اور اپاہج بنانا؛ زنا بالجبر اور متعدد دیگر مظالم شامل ہیں۔

اپریل سنہ 2013 میں، داعش کے موجودہ سرغنے، ابو بکر البغدادی، جنھیں ابو دعا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، عام اعلان کیا کہ عراق میں دولت اسلامیہ ’آئی ایس آئی ایل‘ کے نام سے سرگرم عمل ہے۔ تب سے، داعش نے برملا کہا ہے کہ وہی اب اسامہ بن لادن کی اصل وراث ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ عبدالرحمٰن مصطفیٰ القدولی داعش کے ایک سینئر اہل کار ہیں، جنھوں نے سنہ 2012کے اوائل میں قید سے رہائی پانے کے بعد دوبارہ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی۔ اُنھوں نے شام کی جانب سفر کیا جہاں اُس نے داعش کے نیٹ ورک کے ساتھ کام کیا ہے۔ درحقیقت، اُس نے سنہ 2004 میں القاعدہ اِن عراق (اے کیو آئی) میں شمولیت اختیار کی اور اے کیو آئی کے لیڈر، ابو مصاب الزرقوی کے معاون، اور عراق کے شہر موصل میں اے کیو آئی کے امیر کے فرائض انجام دیے ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ 14 مئی، 2014ء کو القدولی کو عالمی دہشت گردی کی خصوصی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔

ابو محمد العدنانی کا اصل نام طاحہ صبحی فلاحہ ہے، وہ داعش کا ایک سینئر لیڈر اور اُس کا سرکاری ترجمان ہے۔ وہ خاص طور پر آئی ایس آئی ایل کی پیغام رسانی پر مامور ہے، جس میں داعش کی جانب سے اسلامی خلافت کا اعلان بھی شامل ہے۔ اپنے عام اعلانات میں، العدنانی بارہا مغرب کے لوگوں پر حملے کرنے پر زور دیتے رہے ہیں، اور امریکہ کو ’شکست‘ دینے کا عہد دہرایا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 18 اگست، 2014ء کو العدنانی کو دہشت گردوں کی خصوصی فہرست میں شمار کیا ہے۔

ترخان تیوموراوچ بتراشولی داعش کے کمانڈر اور شوریٰ کونسل کے رُکن رہ چکے ہیں۔ بتراشولی نے الطبقہ میں دولت اسلامیہ کے ایک قیدخانے پر نظرداری کے فرائض انجام دے چکا ہے، جب کہ وہ داعش کے مالی امور کا شعبہ سنبھال چکا ہے؛ اور وہ شام کے مانبیجی علاقے میں دولت اسلامیہ کے شمالی علاقے کے کمانڈر رہ چکا ہے۔ مئی 2013ء میں وہ شام میں حلب، الرقعہ، لطاکیہ اور شمالی ادلب کے صوبوں کی سرگرمیوں کے شمالی کمانڈر تھے۔ امریکی محکمہٴ خزانہ نے بتراشولی کو 24 ستمبر 2014ء کو دہشت گردی کی خصوصی فہرست میں شامل کیا۔

طارق بن الطاہر بین الفلیح الاونی الہرزی پہلہ دہشت گرد تھا جس نے داعش میں شمولیت اختیار کی اور شام میں دولت اسلامیہ سرکاری طور پر سرگرم اہل کار رہا۔ وہ داعش کے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے، خلیج کے عطیعات دہندگان سے رابطے میں رہ چکا ہے؛ اور دہشت گردوں کو بھرتی کرنے اور تربیت دلانے میں سہولت کار کا کام کرتا رہا ہے۔ اُنھیں شام اور ترکی کے سرحدی علاقے کے لیے داعش کا لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔

سنہ 2013ء کے اواخر میں، الہرزی کو داعش کا خودکش بم حملوں کا سربراہ مقرر کیا گیا، جس حیثیت سے وہ دولت اسلامیہ کے خودکش بم حملہ آوروں کو دی جانے والی سہولتوں پر نگاہ رکھتا رہا ہے۔ الہرزی نے عراق میں داعش کی کارروائیوں کے لیے ہتھیار لیبیا اور شام بھجوانے کا کاروبار کیا۔ چوبیس ستمبر، 2104ء میں امریکی محکمہٴمالیات نے الزری کو دہشت گردی کی خصوصی فہرست میں شامل کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG