رسائی کے لنکس

نیویارک میں جاپانی فن پاروں کی نمائش

  • پیٹر فیڈینسکی

نیویارک میں جاپانی فن پاروں کی نمائش

نیویارک میں جاپانی فن پاروں کی نمائش

ان دنوں نیو یارک شہر میں جاپان سوسائٹی نامی تنظیم کے زیر اہتمام ایک آرٹ کی نمائش جارہی ہے۔ نمائش کی منصوبہ بندی جاپان کے حالیہ زلزلے سے کافی پہلے ہی کی جا چکی تھی۔ لیکن بدلے ہوئے حالات نے نمائش کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کردیا ہے اور قدرتی سانحے کے بعد آرٹ سے دلچسپی رکھنے والوں میں جاپانی فن پاروں کی کشش اور دلکشی مزید بڑھ گئی ہے۔

جاپان اور خوبصورتی کا تعلق بہت گہرا ہے۔ لیکن اس نمائش میں پیش کیے جانے والے آرٹ کے نمونوں میں سنجیدگی کا عنصر زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔جیسے مصور ماکاٹو ایڈا کی ایک پینٹنگ جہاں چین کے پہاڑوں کی یاد دلاتی ہے وہیں وہ عام جاپانی تنخواہ دار طبقے کی کہانی بھی بیان کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

اس نمائش کے ڈائریکٹر جو ارل کا کہنا ہے کہ یہاں آنے والے لوگ ان تصویروں میں جاپان کے سونامی اور زلزلے کے بعد کی تصویروں میں مماثلت بھی تلاش کرتے ہیں۔ ان کا کہناتھاکہ یہ نمائش دنیا کے سامنے جاپان کی ایک مکمل تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک ایسی تصویر جس کے ذریعے آپ زلزلے اور سونامی جیسی آفات اور جوہری پلانٹ میں ہونے والی تباہی کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔

جو کا کہنا ہے کہ اس ناگہانی آفت کے نقصانات کا اندازہ لگانا شاید بہت مشکل ہے۔ لیکن یہاں آرٹ کے شائقین کے لیے اب ان تصاویر کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے۔

نمائش دیکھنے کے لیے آنے والے کینٹ برنارڈکا کہناتھا کہ ایسی چیزیں جو آپ صرف آرٹ کے ذریعے ہی دیکھ سکتے تھے اب ہم حقیقت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ پہلو آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ قدرت آرٹ کی خیالی دنیا سے بھی زیادہ انوکھی ہے۔

کینٹ ورٹاکس کے نام سے منسوب اس تصویر کا حوالہ دیتے ہیں جسے ٹوموکو شایوآسو نے تخلیق کیا ہے۔ جس میں مصور نے پتھروں، درختوں ، ندیوں نالوں کی بدلتی ہوئی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حیران کن طور پر یہ سونامی کے بعد آنے والی تباہی کی تصویر بھی پیش کر رہی ہے۔جبکہ جو کا کہنا ہے کہ اس نمائش میں بہت سے نمونے حادثات سے اس طرح کی مماثلث رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور تصویر میں جوہری اخراج سے جڑے خطرات کے پیش نظر بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی کو ایک خطرناک شیطان کے گھات لگا کر بیٹھنے اور ایک نوکیلی چٹان پر تنی رسی کے اوپر سے لوگوں کے گزرنے سے جیسے ان مناظر سے منطبق کیاجا سکتا ہے۔ جبکہ ایک اور تصویر کی آبشار ان خطرات کا ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے کی علامت ہے۔

جو کا کہنا ہے کہ شاید ان تصویروں کے خالق مصور ان کی پینٹنگز کی اس تشریح کو اچھا نہ سمجھیں کیونکہ یہ تصویریں اس تباہی سے پہلے بنائی گئی تھیں۔ لیکن یہا ں آنے والے لوگ اس مماثلث کو ضرور دیکھتے ہیں۔

نیو یارک کے ایک مقامی اخبار نے بھی اس نمائش کو جاپان میں تباہی کے بعد پیدا ہونے والی تشویش کی ایک تصویر قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG