رسائی کے لنکس

ای میلز نئی چھان بین 'تیزی سے' نمٹانے کی یقین دہانی


ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن

محکمہ انصاف کے اعلیٰ عہدیدار پیٹر کیڈزک نے یہ یقین دہانی سینیٹ کے کئی اہم ڈیموکریٹس کے نام پیر کو لکھے گئے ایک خط میں کی جو ’ایف بی آئی‘ کی طرف سے صدارتی انتخاب کے قریب ای میلز کی نئی چھان بین پر ناراض ہیں۔

امریکہ کے محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ وہ ہلری کلنٹن کی ای میلز سے متعلق نئی تحقیقات کرانے کے لیے وفاقی ادارے 'ایف بی آئی ' کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

محکمہ انصاف کے اعلیٰ عہدیدار پیٹر کیڈزک نے یہ یقین دہانی سینیٹ کے کئی اہم ڈیموکریٹس کے نام پیر کو لکھے گئے ایک خط میں کی جو ’ایف بی آئی‘ کی طرف سے صدارتی انتخاب کے قریب ای میلز کی نئی چھان بین پر ناراض ہیں۔

کیڈزک نے خط میں لکھا کہ "ہم آپ کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ محکمہ( انصاف) ایف بی آئی کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور (ہم) مل کر تمام وسائل کو وقف کر رہے ہیں اور جتنا ممکن ہو سکے تیزی سے اقدامات کریں گے۔"

" ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے (آپ کی) تشفی ہو گی۔"

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جمیز کومی نے جمعہ کو کانگرس کو آگاہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے عہدیدار کانگریس کے سابق رکن انتھونی وائنر کے کمپیوٹر کی چھانی بین کے دوران ملنے والی کلنٹن کی نئی ’ای میلز‘ کا جائزہ لیں گے۔

وائنر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک پندرہ سالہ لڑکی کو جنسی نوعیت کی ای میلز بھیجی تھیں، وائنر اور ہلری کی معاون ہما عابدین ایک ہی کمپوٹر استعمال کرتے تھے۔

کومی نے کہا کہ تفتیش کاروں کو ملنے والی ای میلز کا تعلق ان کی طرف سے پہلے کی جانے والی چھان بین کے معاملے سے ہے اور یہ ای میلز ہلری کلنٹن نے اس وقت بھیجی یا وصول کی تھیں جب وہ وزیر خارجہ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

کلنٹن اور ڈیموکریٹس نے اس وقت خوشی کا اظہار کیا تھا جب کومی نے جولائی میں کلنٹن کی ای میلز سے متعلق اپنی تفتیش کو یہ کہتے ہوئے روکنے کا اعلان کیا کہ اگرچہ کلنٹن کا اپنی ای میلز سے متعلق رویہ غیر محتاظ تھا تاہم انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ۔

کومی نے اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ تفتیش میں ایسی کیا بات سامنے آئی جس کی وجہ سے نئے سرے سے چھان بین کی ضرورت پڑی۔ اس اقدام پر ڈیموکرٹیس اور کئی ریپبلکنز کو اس بات پر حیرانی ہوئی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

پیر کو اوہائیو میں اپنی مہم کے دوران ہلری کلنٹن نے کہا کہ "یہ کوئی کیس نہیں بنتا ہے۔"

انہوں نے ایف بی آئی پر "شواہد نا ہونے کے باوجود" انتخاب میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے تفتیش کاروں سے کہا کہ وہ عابدین کی ای میلز کو "ہر طرح سے" چھا ن پھٹک کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں زیادہ تر لوگوں نے بہت پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس سارے معاملے کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے۔"

دوسری طرف ریپبلکن صدارتی امیدوارڈونلڈ ٹرمپ نے کسی حیرت کے بغیر کومی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مشی گن میں ایک جلسے کے دوران کہا کہ "ایسا کرنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔"

انہوں نے کہا کہ "جو کچھ انہوں نے کیا وہ صیح بات ہے۔" ٹرمپ کے مہم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگرکومی نے اس وقت کلنٹن کی ای میلز کا دوبارہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تو ضرور کوئی بات ہے۔

ای میلز سے متعلق تنازع کے دوبارہ سامنے آنے کے بعد امریکہ کی صدراتی انتخاب میں مقابلہ سخت ہو گیا ہے اور عوامی رائے عامہ کے جائزے ملک بھر میں کلنٹن کو ٹرمپ پر تین پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG