رسائی کے لنکس

کراچی: اولڈ سٹی کے اقلیتی خاندانوں کی انصاف کی اپیل


نوجوانوں کے قتل، لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے مبینہ واقعات اور جان سے مار دینے کی دھمکیوں نے اِن افراد کو اپنے آشیانے چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے: انسانی حقوق کمیشن

کراچی میں دہشتگردی کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ، اولڈ سٹی ایریا، جو گزشتہ چند سالوں سے ’گینگ وار‘ کی لپیٹ میں ہے، اس میں جہاں کچھی برادری، بلوچ اور دیگر زبانیں بولنے والے لوگ متاثر ہوئے ہیں، وہیں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کئی ہندو خاندان اور مسیحی برادری کے لوگ بھی محفوظ نہیں رہے۔

کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں قائم اقلیتی برادری کی بستی ’سلاٹر ہاوٴس‘ میں رہنے والے 600 خاندان گھر سے بے گھر کر دئے گئے ہیں۔ اُن افراد مں 400 عیسائی خاندان، جبکہ 200 کے لگ بھگ ہندو خاندان شامل ہیں۔ نوجوانوں کے قتل، لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات اور جان سے مار دینے کی دھمکیوں نے اِن افراد کو اپنے آشیانے چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اِنہی متاثرہ خاندانوں میں سے ایک مسیحی برادری کی خاتون، ریٹا نے ’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ سے گفتگو میں بتایا کہ، ’نامعلوم ملزمان نے اسے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعدازاں، علاقے میں بنے ایک ’ٹارچر سیل‘ لے گئے اور کئی روز تک ’گن پوائنٹ‘ پر جسمانی اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا‘۔

ریٹا کے بقول، ’میں چوری چھپے وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب تو ہوگئی، مگر میرے گھر پر اب دہشتگردوں کا قبضہ ہے۔ رہنے کو کوئی جگہ نہیں۔ رشتے داروں کے ہاں سر چھپائے بیٹھے ہیں۔ مگر یہ ٹھکانہ عارضی ہے‘۔

ریٹا بتاتی ہے کہ اس واقعے نے اس کی زندگی پر کئی گہرے اثرات چھوڑے۔ بقول اس کے، اس واقعے کے کئی دن بعد بھی، وہ ٹھیک سے سو نہیں سکی۔

وہ شادی شدہ ہے اور اس کے تین چھوٹے بچے ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ ہم انصاف کیلئے آواز اٹھا رہے ہیں کہ اقلیتی حقوق کے تحت ہمیں انصاف دیا جائے۔

اولڈ سٹی ایریا کے علاقے کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نے علاقے کی اس جنگ میں اپنا شوہر گنوایا۔

خاتون نے گفتگو میں بتایا کہ ہم پر ان مکانات کو خالی کرنے کا دباوٴ تھا، جس میں اسکا خاوند جان سے چلا گیا۔

چند دہشت گردوں نے دوپہر کے وقت دروازہ کھٹکھٹایا اور شوہر کو باہر بلایا۔ اس سے چند باتیں کرکے، اس پر فائر کھول دیا۔ اور بچوں سے اس کا باپ اور اس سے اس کا شوہر چھین لیا۔

خاتون بتاتی ہے کہ پولیس سے رابطہ کرنے کے بعد بھی انھیں انصاف ملنے کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔

وہ بتاتی ہے کہ اعلی افسران کہتے ہیں کہ ملزمان کی نشاندہی کے باوجود ہمارے پاس ان کے خلاف کاروائی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

انسانی حقوق کے لئے سرگرم تنظیم ’ایچ آر سی پی‘ کے مطابق، کراچی آپریشن کے دوران، رینجرز اور پولیس اہلکار اقلیتی برادری کے خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

بقول اُس کے، دہشت گرد شہریوں کو کھلے عام لوٹ مار کرکے خواتین کی عزت کو بھی تار تار کر دیتے ہیں۔ اُن کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔

’انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان‘ نے جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کےدوران اقلیی برادری کے ساتھ ہونےوالے اس ناروا سلوک کیخلاف سخت مذمت کرتے ہوئے حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں، کمیشن کی سربراہ، زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ اولڈ سٹی ایریا میں ’گینگ وار‘ اتنی بڑھ گئی ہے کہ اس سے اقلیتی برادری کے لوگ بھی سخت متاثر ہو رہے ہیں۔ ’گینگ وار کے باعث، ان متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر ہندو اور عیسائی مذہب کے لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں۔‘

انسانی حقوق کمیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ’حکومتی ادارے ان متاثرہ علاقوں میں امن کے قیام کے لئے کام کریں اور ان لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، کیونکہ اس بات کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے‘۔
XS
SM
MD
LG