رسائی کے لنکس

کراچی: امن وامان کی خاطر رینجرز کے اختیارات میں پھر توسیع، عوام کے تحفظات


کراچی: امن وامان کی خاطر رینجرز کے اختیارات میں پھر توسیع، عوام کے تحفظات

کراچی: امن وامان کی خاطر رینجرز کے اختیارات میں پھر توسیع، عوام کے تحفظات

حکومت سندھ نے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں ایک مرتبہ پھر تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ گزشتہ ماہ رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے سرفراز شاہ نامی شخص کی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد کراچی میں رینجرز کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا اور عوامی حلقے ادارے کے کردار پرسخت تحفظات ظاہر کر رہے ہیں ۔

صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ دفعہ پانچ کے تحت رینجرز کو تلاشی اور ملزمان کی گرفتار ی کے لئے چھاپوں کے خصوصی اختیارا ت دیئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کسی بھی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لئے رینجر اہلکار اسلحہ بھی استعمال کر سکیں گے ۔

اختیارات کا 20 واں سال

کراچی میں امن و امان کے قیام کے لئے 20 سال قبل1991 میں رینجرز کو طلب کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے اب تک ہر تین ماہ بعد اس کے اختیارات میں توسیع کر دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرفتاری کا اختیار صرف پولیس کو ہے اور جب حالات زیادہ کشیدہ ہوتے ہیں تو رینجرز کوشر پسندوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم مل جاتا ہے جس سے ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے ۔

41 روز قبل کراچی کے علاقے کلفٹن میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں سرفراز نامی شخص کے سر عام قتل کے واقعے کی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد اس ادارے پر انسانی حقوق کی تنظیموں ، سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت عام لوگوں میں کڑی تنقید کی گئی ،اس واقعہ کے بعد اگر چہ رینجرز کے سندھ میں مزید قیام پر متعدد سوالیہ نشانات لگ گئے مگر کچھ ہی دنوں میں شہر میں ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کو رینجرزکو حرکت میں لانا پڑا ۔

حالیہ پرتشدد واقعات میں رینجرز پرتنقید

اس حوالے سے کراچی کے مختلف شہریوں نے وی او اے کو اپنی رائے سے آگاہ کرتے ہوئے رینجرز کے کراچی میں مزید قیام پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سرفراز شاہ قتل کیس کے علاوہ حالیہ واقعات میں بھی رینجرز کا کردار انتہائی متنازعہ رہا ۔ گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقوں اورنگی ٹاؤن ، قصبہ کالونی اور کٹی پہاڑی پر ہونے والے خونریز واقعات میں رینجرز اختیارات کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی اور طاقت کے باوجود شہریوں کو بھوکا پیاسا تڑپٹے دیکھتی رہی اور جب اس نے حالات کو صحیح کرنا چاہا تو آدھے گھنٹے میں حالات پر قابو پالیا ۔

XS
SM
MD
LG