رسائی کے لنکس

افغان صدر سیکیورٹی ذمہ داریوں کی منتقلی کا اعلان کل کرینگے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پہلے مرحلے میں جن علاقوں کی سکیورٹی کا کنٹرول مقامی افغان فورسز کے سپرد کیا جارہا ہے ان میں لشکر گاہ، ہرات اور مزارِ شریف جیسے تین بڑے شہر اور بامیان اور پنجشیر کے صوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کابل کے نواحی علاقے سروبی کو چھوڑ کر پورے افغان دارالحکومت کا کنٹرول بھی مقامی فورسز سنبھال لیں گی

افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے منگل کے روز افغانستان کے اُن علاقوں کے ناموں کا اعلان متوقع ہے جہاں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں بین الاقوامی افواج سےافغان فورسزکو منتقل کرنے کےعمل کی ابتداء کی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے میں جن علاقوں کی سکیورٹی کا کنٹرول مقامی افغان فورسز کے سپرد کیا جارہا ہے ان میں لشکر گاہ، ہرات اور مزارِ شریف جیسے تین بڑے شہر اور بامیان اور پنجشیر کے صوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کابل کے نواحی علاقے سروبی کو چھوڑ کر پورے افغان دارالحکومت کا کنٹرول بھی مقامی فورسز سنبھال لیں گی۔

جن علاقوں کی سیکیورٹی کا انتظام افغان فورسز کے ہاتھوں میں دیا جارہا ہے ان میں زیادہ تر وہ علاقے شامل ہیں جنہیں نسبتاََ محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔

افغانستان کے نائب صدر عبدالکریم خلیلی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ذمہ داریوں کی منتقلی کے پہلے مرحلے کی تفصیلات کا اعلان صدر حامد کرزئی کی جانب سے منگل کے روز کیا جائے گا۔

پیر کے روز نئے افغان سال کے آغاز کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان نائب صدر نے ایک بار پھر افغان حکومت کی جانب سے مسلح شدت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار پھینک کر امن عمل کا حصہ بنیں۔

دو ہفتے قبل برسلز میں منعقدہ نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں منظور کردہ منصوبہ کے تحت مقامی افغان فورسز کو رواں سال جولائی سے افغان علاقوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داریوں کی مرحلہ وار منتقلی شروع کردی جائے گی جو 2014ء میں مکمل ہوگی۔ افغانستان میں تعینات لگ بھگ ایک لاکھ پچاس ہزارامریکی و نیٹو افواج کے مکمل انخلاء کا دارومدار بھی اس عمل کی کامیابی پر ہوگا۔

XS
SM
MD
LG