رسائی کے لنکس

جنوبی کوریائی باشندوں کی سرحد پار رشتے داروں سے ملاقاتیں


جنوبی کوریائی باشندوں کی سرحد پار رشتے داروں سے ملاقاتیں

جنوبی کوریائی باشندوں کی سرحد پار رشتے داروں سے ملاقاتیں

435سے زائد جنوبی کوریائی باشندوں کو لے کر بسیں ہفتے کی صبح شمالی کوریا پہنچی ہیں جہاں تقریباً 60سال قبل کوریائی جنگ میں منقسم ہونے والے خاندانوں کی ملاقات ہورہی ہے۔

شمالی کوریا کے ڈائمنڈ ماؤنٹین ریزارٹ پر منعقد ہونے والی اس تین روزہ تقریب ملاقات میں 97خاندانوں کے بزرگ رشتے دار ایک دوسرے سے ملیں گے۔ جنوبی کوریا کی وزارت ری یونیفیکیشن کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تقریباً ایک سو خاندان بدھ سے جمعے تک اسی جگہہ ملاقاتیں کریں گے۔

حکام کے مطابق 2000ء سے شروع ہونے والے اس پروگرام کے تحت 17تقریبات میں اب تک 3500خاندانوں کے 17ہزار ایک سو افراد ملاقاتیں کرچکے ہیں اور 550خاندانوں کی وڈیو کے ذریعے منقسم رشتے داروں سے ملاقات کرائی گی۔

جمعہ کے روز شمالی کوریا کی طرف سے دونوں ملکوں کو تقسیم کرنے والے غیر فوجی علاقے سے پار فائرنگ کی جس کے جواب میں سرحد پار سے بھی فائرنگ کی تھی لیکن اس کے باوجود منقسم خاندانوں کی ملاقات کی تقریب منعقد کی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرحد پار سے دو گولیا ں فائر کی گئیں جس کے جواب میں فوری طور پر تین گولیاں چلائی گئیں۔ یہ واقعہ سیول کے شمال مشرق میں 1180کلومیٹر دورہواچیئون سرحد پر پیش آیا ۔اس جھڑپ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے محرکات کا پتا چل سکا ہے۔

دونوں ممالک 1950ء سے 1953ء تک جاری رہنے والی جنگ کے ایک معاہدے کے تحت اختتام کے بعد اب بھی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

اس واقعے سے چند گھنٹے قبل شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ اس کے ساتھ عسکری مذاکرات سے انکار کرتا رہے گا تو اس کے ’تباہ کن اثرات‘ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG