رسائی کے لنکس

میلہ چراغاں کی رونقیں قائم۔ جشن بہاراں البتہ نہ جم سکا

  • افضل رحمٰن

میلہ چراغاں

میلہ چراغاں

میلہ چراغاں کو بڑی نسبت اگرچہ مادھو لال حسین کے عرس سے ہے مگر اس کی پہچان وہ ملنگ ہیں جو سینکڑوں ٹولیوں کی شکل میں درگاہ کے ارد گرد عرس کے دِنوں میں ڈیرے ڈالے رکھتے ہیں

بسنت کا تہوار لاھور میں جشنِ بہاراں کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ پتنگ بازی پر پابندی سے مارچ کے مہینے میں لاھور میں جشن ِ بہاراں کو جوش و خروش سے منانے کی خواہش پہلے ماند پڑ چکی تھی کہ اس ماہ اس شہر میں دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے ہونے والے واقعات نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ جشن ِبہاراں کی بہت سے تقریبات منسوخ ہوگئیں اور جو ہوئیں وہ بھی جم نہ سکیں۔ لاھور میں میلہ چراغاں جشن ِ بہاراں کا آخری حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میلے کی رونقوں کو البتہ کچھ بھی متاثر نہ کرسکا اور یہ میلہ پورے جوش وخروش سے ہوا۔

لاھور کے تاریخی شالا مار باغ سے متصل باغبان پورہ کے اُس حصے میں جہاں پنجابی صوفی شاعر شاہ حسین اور مادھو لال کے مزارات واقع ہیں وہاں حسبِ روایت ملنگوں نے ڈیرے ڈال دیئے۔ یہاں کی گلیوں بازاروں میں اس میلہ کی پہچان مٹھائیوں کی دکانیں لگ گئیں۔ کھلونے بیچنے والے آگئے اور جھولے اور سرکس لگانے والوں کو جہاں جگہ ملی جم گئے۔ کسی قسم کے خطرے سے بے نیاز ہزاروں کی تعداد میں زائرین اور شائقین اس میلے کو دیکھنے پہنچے۔ مادھو لال حسین کے مزارات پر گئے اور پھر جنہوں نے منت مانی ہوئی تھی وہ اس درگاہ کے احاطے میں واقع ایک بڑے کنویں میں چراغ یا موم بتیوں کے بنڈل پھینکتے رہے اور عرس کے دِنوں میں اس کنویں کو آگ سے روشن رکھا۔ اس کنویں میں چراغ پھینکنے کی رعایت سے اس میلے کو میلہ چراغاں کہا جاتا ہے اور اس کنویں میں روشن آگ کے گرد ملنگوں کی دھمال اس میلے کا یاد گار منظر سمجھی جاتی ہے۔

لاھور میں کئی بڑے بڑے میلے لگتے ہیں۔ ان میں ہر میلے کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ میلہ چراغاں کو اگرچہ بڑی نسبت شاہ حسین اور مادھو لال کی قبروں سے ہے مگر اس میلے کی پہچان وہ ملنگ ہیں جو یہاں کثیر تعداد میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں اور منشیات بیچنے والوں کی چاندی ہوجاتی ہے کیونکہ یہ ملنگ چرس، بھنگ اور ایسے دیگر نشے کرکے دھت اِردگرد کے باغات میں پڑے رہتے ہیں۔

میلہ چراغاں کا آغاز مادھو لال اور شاہ حسین کی قبروں پر چادریں چڑھانے کی تقریب سے ہوا، اس موقع پر انتظامیہ کے ایک رکن پیر ولی شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ ملنگ، مادھو لال حسین کے عرس کی تقریبات اور میلہ چراغاں کا عرصہ دراز سے لازمی حصہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ویسے بھی سال بھر اس درگاہ پر کافی ملنگ ڈیرے ڈالے رہتے ہیں مگر اُن کے بقول عرس کے دِنوں میں پنجاب کے مختلف حصوں سے سفر کرکے بھی بہت سے ملنگ یہاں آتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ شاہ حسین اور مادھو لال کی قبروں کے باہر کئی احاطوں میں ملنگوں کی جو سینکڑوں ٹولیاں موجود ہیں ان کے کھانے پینے کا کیا انتظام ہے، اس عہدیدار نے کہا کہ درگاہ کی انتظامیہ کے علاوہ میلے میں آنے والے مخیر حضرات بھی ان لوگوں کو خوراک فراہم کرنے میں تعاون کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔

اِن ملنگوں سے گفتگو کرنا کافی مشکل ہوتا ہے تاہم ایک ملنگ نے اپنا نام"بابا کانا" بتایا۔ اس ملنگ کی ایک آنکھ بند تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ اُس نے اپنی مرضی سے اپنی ایک آنکھ چھبیس برس پہلے مادھو لال حسین کے عرس کے موقع پر خود ہی بند کرلی تھی لہذا اب اُس کے ساتھی اُس کو بابا کانا یعنی ایک آنکھ والا بابا کہتے ہیں۔ اُس نے کہا کہ اُس کی آنکھ میں کوئی خرابی نہیں ہے "بس جب حکم ہوگا کھول دوں گا" یہ کہہ کر اُس نے زور کا ایک نعرہ لگایا اور ایک طرف کو نکل گیا۔

ملنگوں کے ان ڈیروں سے باہر گلیوں بازاروں میں میلہ دیکھنے والے ہجوم سے کسی قسم کے سکیورٹی سے متعلق خطرے کی نشاندہی نہیں ہوتی تھی تاہم اس علاقے میں تعینات پولیس کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سکیورٹی کا اس میلے میں مکمل انتظام ہے اور ان کے بقول وردی میں پولیس کے ساتھ ساتھ سول کپڑوں میں بھی کافی نفری ڈیوٹی پر موجود ہے۔

میلہ دیکھنے آئے ایک شخص عبدالمجید نے، جس کے ہمراہ چھوٹی عمر کے اس کے تین بچے تھے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور کے نواح میں واقع شاہدرہ سے اپنے بچوں کو یہ میلہ دکھانے یہاں لایا ہے۔ سکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں عبدالمجید نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے کے ڈر سے اب گھروں میں دبک کر تو نہیں بیٹھا جاسکتا۔

XS
SM
MD
LG