رسائی کے لنکس

روس اور نیٹو کے درمیان لیبیا آپریشن سے متعلق اختلافات


روس کے صدر دمتری میدویدیف اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن

روس کے صدر دمتری میدویدیف اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن

روس اور نیٹو کے درمیان لیبیا میں مغربی ممالک کی فضائی کارروائیوں سے متعلق اختلافات دور نہیں ہو سکے ہیں۔

ماسکو نے الزام لگایا ہے کہ نیٹو لیبیا میں فوجی مداخلت کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کر رہی ہے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل راسموسن نے تنظیم کے لیبیا میں مشن کا دفاع کیا ہے۔

راسموسن نے پیر کو روس کے شہر سوچی میں صدر دمتری میدویدیف اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما سے ملاقات میں لیبیا کی صورت حال پر بات چیت کی۔ مسٹر زوما نے لیبیا میں جاری بحران کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے افریقی یونین کی کوششوں کی قیادت کی تھی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگی لاروف کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کے طریقہ کار سے متعلق کوئی متفقہ لائحہ عمل نہیں ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے سپرد کردہ اختیار کو قرارداد کے متن کی اضافی تشریح کیے بغیر پورا کیا جانا چاہیئے۔

روس اور نیٹو کے درمیان لیبیا آپریشن سے متعلق اختلافات

روس اور نیٹو کے درمیان لیبیا آپریشن سے متعلق اختلافات

ایک ایسے وقت جب نیٹو نے لیبیائی باغیوں کی مدد کے لیے فضائی کاررئیاں تیز کر رکھی ہیں، روس کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے۔ ماسکو نے معمر قدافی کے مخالف باغیوں کو فرانسیسی ہتھیاروں کی براہ راست فراہمی کی اطلاعات پر خصوصاً برہمی کا اظہار کیا ہے۔

روس نے مارچ میں اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے خلاف یا حق میں ووٹ نہیں دیا تھا جس میں نیٹو کو لیبیا کے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے فوجی کارروائیوں کا اختیار دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG