رسائی کے لنکس

لیبیا میں ڈکٹیٹرشپ کے دن ختم ہو گئے: تجزیہ کار


لیبیا میں ڈکٹیٹرشپ کے دن ختم ہو گئے: تجزیہ کار
لیبیا میں ڈکٹیٹرشپ کے دن ختم ہو گئے: تجزیہ کار

معمر قذافی کی ہلاکت کی اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئےپاکستان کے سابق سفیر اور بین الاقوامی امور کےتجزیہ کار ظفر ہلالی نے کہا ہےکہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ لیبیا میں ڈکٹیٹرشپ کا دور ختم ہو گیا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ لیبیا سمیت پوری دنیا میں جہاں جہاں بھی شخصی حکومت ہے یا مطلق العنانیت ہے، وہاں کی حکومتوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ شہریوں کو آج کے دور میں اُن کے حقوق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ۔

ظفر ہلالی کا کہنا تھا کہ لیبیا کی قومی عبوری کونسل جو اِس وقت تک ملک میں جمہوری نظام کی داعی نظر آتی ہے اُسے چاہیئے کہ وہ قذافی کے حامی قبائل سے انتقام لینے کے بجائے انہیں مصالحتی عمل میں شریک کریں۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کاراور مشرق وسطی کے امور کے ماہر زبیراقبال کا کہنا تھا کہ معمرقذافی کی ہلاکت کے بعد لیبیا کی قومی عبوری کونسل کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ’ اب انہیں شخصی اقتدار سےعوامی اقتدار کی جانب منتقلی کا عمل تیز کردینا چاہیئے‘۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق راہنما معمرقذافی کے حامیوں کے خلاف لڑنا سود مند نہ ہوگا، کیونکہ اُن میں سے بیشتر ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں تیل کی تنصیبات ہیں، اور اُن کے پاس چونکہ اسلحہ بھی وافر مقدار مقدار میں موجود ہے، لہٰذا ایک خانہ جنگی میں الجھنے کے بجائے انہیں ملکی تعمیر ِنو میں شرکت کی دعوت دی جانی چاہیئے اور کوشش ہونی چاہیئے کہ جلد از جلد ایک قومی حکومت تشکیل دی جا سکے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG