رسائی کے لنکس

ممتاز گلوکارہ مہناز بیگم چل بسیں


مہناز بیگم

مہناز بیگم

میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی ممتاز گلوکارہ مہناز بیگم، جو ایک طویل عرصے سے علیل تھیں، اُن کا بحرین کے ایک اسپتال میں انتقال ہوا

پاکستان کی ممتاز گلوکارہ مہناز بیگم، جو ایک طویل عرصے سے علیل تھیں، بحرین کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کچھ روز قبل کراچی سے امریکا کے سفر کے دوران جہاز میں اُن کی طبیعت ناساز ہوگئی تھی، جس کے باعث مسافر پرواز کو ہنگامی طور پر بحرین اتار لیا گیا تھا۔

طبی امداد کے لیے اُنھیں دارالحکومت مناما کے ایک اسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا، لیکن وہ صحت یاب نہ ہو سکیں۔

مہناز بیگم ٹھمری اور دیگر اصناف میں ملکہ رکھتی تھیں، اور ایک عرصے تک پاکستانی فلموں کے لیے اپنی آواز کا جادو جگاتی رہیں۔

وہ 1958ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔

اُن کی والدہ کجن بیگم، برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کی ایک نامور گلوکارہ تھیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مہناز بیگم بلڈ پریشر، شوگر اور پھیپھڑوں کی سوزش کے عارضے میں مبتلا تھیں۔

اُنھیں غزل، ٹھمری، دھادرا، خیال اور دھرپٹ پر خاص ملکہ حاصل تھا، اور میڈم نور جہاں کے بعد مہناز نے پاکستانی فلموں کے لیے سینکڑوں گیت گائے۔

موسیقی کے لیے مہناز بیگم کی شاندار خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ کئی عشروں تک ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلمی صنعت کی ایک مقبول گلوکارہ رہیں، جنہوں نے موسیقی کے پرستاوں کو اپنی مدھر آواز سے محظوظ کیا۔

اردو کے علاوہ، مہناز نے سندھی، پنجابی، پشتو اور فارسی زبانوں میں نیم کلاسیکی، لوک گیت اور پاپ موسیقی بھی پوری مہارت سے گائی۔ سلام، مرثیے اور نوحے بھی روایتی خوبی کے ساتھ پڑھا کرتی تھیں۔

اُن کے مداحوں کا کہنا ہے کہ اُن کے گائے ہوئے گیت ایک طویل عرصے تک اُن کی یاد دلاتے رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ نیرہ نور کی طرح مہناز کے گلے میں ایک سوز تھا، جس میں پکے راگ کے آلاب کا اضافہ سننے والے پر وجدانی کیفیت طاری کرتا تھا۔

مہناز نے مہندی اور شادی بیاہ کے یادگار گیت گائے، اور وہ موسیقی کی محافل کی جان سمجھی جاتی تھیں۔

اُنہوں نے ڈھائی ہزار سے زائد گانے گائے۔ مہناز بیگم کو متعدد بار بہترین گلوکارہ کے ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔

امیر خسرو کے گیت:

پھول رہی سرسوں سکل بِن۔۔۔

سرسوں پھول بنی اور کوئل کوکٹ راگ ملھار
ناریاں جھولے ڈال کے دیکھت ہیں ساون کی دھار۔۔۔

گوندھو ری مالن پھولوں کا سہرا۔۔۔

یا پھر، احمد فراز کی غزل:

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں، جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں، جاناں۔۔۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG