رسائی کے لنکس

نیٹو فورسز کی مدد سے افغان فوج کی طالبان کے خلاف کارروائی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مقامی حکام نے بتایا کہ اس شہر کا قبضہ بحال کروانے کے لیے کی گئی کارروائی میں لگ بھگ ڈیڑھ سو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں طالبان عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے ملک میں مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت کے لیے تعینات بین الاقوامی فوجیوں نے افغان فورسز کے ساتھ مل کر کارروائیاں کی ہیں۔

رواں ہفتے طالبان نے ہلمند کے ایک اہم شہر موسیٰ قلعہ پر قبضہ کر لیا تھا اور اس دوران کم ازکم 35 افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

جمعہ کو مقامی حکام نے بتایا کہ اس شہر کا قبضہ بحال کروانے کے لیے کی گئی کارروائی میں لگ بھگ ڈیڑھ سو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

نیٹو کے ریزولیوٹ سپورٹ مشن نے تصدیق کی ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے موسیٰ قلعہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پے در پے بمباری کی جب کہ زمینی لڑائی میں بھی بین الاقوامی فوجیوں نے افغان فورسز کی معاونت کی ہے۔

عسکریت پسندوں نے پہلے صوبے کے ایک اور شہر نوزاد پر قبضہ کیا تھا جہاں سے پیش قدمی کرتے ہوئے انھوں نے موسیٰ قلعہ پر گھیرا تنگ کیا اور یہاں اپنا تسلط قائم کر لیا۔ یہاں سے وہ اپنے جنگجوؤں کی مرکزی شہر لشکر گاہ کی طرف پیش قدمی کو آسان بنانا چاہتے تھے۔

گزشتہ سال کے اواخر میں جنگ سے تباہ حال ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد تشدد پر مبنی طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا اور انھوں نے مختلف اوقات میں بعض علاقوں پر قبضہ بھی کیا، لیکن وہ اپنا تسلط زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ان کے جنگجوؤں کی کارروائیاں جاری رہیں گی کیونکہ ان کے بقول افغانستان پر غیر ملکی تسلط تاحال برقرار ہے۔ ان کا اشارہ یہاں تعینات نیٹو فوجوں کی طرف تھا۔

بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت 2016ء تک یہاں تقریباً 12 ہزار بین الاقوامی فوجی تعینات رہیں گے۔ ان میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے اور یہ فورسز مقامی فوج اور پولیس کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گی۔

افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے ملک میں امن و مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی تاحال ثمر بار نہیں ہو سکی ہیں۔

طالبان اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ ماہ پہلی مرتبہ براہ راست ملاقات ہوئی تھی جس کا اہتمام پاکستان نے اپنے ایک سیاحتی مقام مری میں کیا تھا۔

لیکن بعد میں طالبان کے امیر ملا عمر کی وفات کی خبر منظر عام پر آئی اور ملا اختر منصور کی بطور نئے امیر تقرری سے یہ اطلاعات بھی آئیں کہ طالبان کے مختلف دھڑوں میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

ان آپسی اختلافات کے تناظر میں بھی افغان طالبان کے اپنے ملک کی حکومت سے بات چیت کے مستقبل کے بارے میں شک و شبہات کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG