رسائی کے لنکس

شمالی کوریا نے ’جوہری صلاحیت میں اضافے کا رجحان ترک نہیں کیا‘

  • برائن پیڈن

امریکہ اور چین کی مشترکہ کوششوں کے باعث مارچ میں اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر کڑی پابندیوں کی منظوری دی تھی جن کے تحت شمالی کوریا پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مالی اور تجارتی پابندیاں بھی عائد کر دی گئی تھیں۔

شمالی کوریا کے خلاف گزشتہ برس کے دوران عائد کی گئی کڑی بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اس ملک کی جوہری صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ کرنے کے رجحان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

لیکن سیول سے وائس آف امریکہ کے نمائندے برائن پیڈن نے بتایا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا میں جاری غیر متوقع تبدیلیوں کے باعث تناؤ کی کیفیت میں وقتی طور پر ٹھہراؤ پیدا ہو گیا ہے اور پیانگ یانگ اپنے مخالفین کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔

شمالی کوریا نے اس سال کا آغاز اپنے چوتھے جوہری تجربے سے کیا تھا جس کے بعد اُس نے لمبے فاصلے تک مار کرنے والا راکٹ بھی داغا تھا۔

بعد میں شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظور کی گئی قراردادوں کے مطابق اپنے ملک کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر عائد پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا جوہری قوت کا حامل ملک ہے۔

وسیع تباہی کے حامل اِن ہتھیاروں کی طرف سے فوجی نوعیت کا جو خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اُس سے مزید آگے بڑھتے ہوئے علاقائی سلامتی کے تجزیہ نگار ڈینیئل پینکسٹن کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کی طرف سے اُس کی جوہری صلاحیت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ ماننے سے عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔

’’اگر دوسرے ممالک اس پر نظر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں کیونکہ جوہری پھیلاؤ پر زیادہ اخراجات نہیں اُٹھتے، تو وہ کہ سکتے ہیں کہ اُنہیں بھی جوہری دفاع کی صلاحیت حاصل کر لینی چاہئیے کیونکہ اس پر زیادہ لاگت نہیں آتی۔ میرا خیال ہے کہ اس سے دنیا کہیں زیادہ خطرناک جگہ بن جائے گی۔‘‘

شمالی کوریا کی طرف سے جوہری اور میزائل تجربات کے بعد جنوبی کوریا نے شمالی کوریا سے باقی ماندہ روابط بھی منقطع کر لیے تھے جن میں دونوں ممالک کی طرف سے مشترکہ طور پر چلائے جانے والے کیسونگ صنعتی کمپلیکس کی بندش بھی شامل تھی جس میں 54,000 شمالی کوریائی افراد ملازم تھے۔

امریکہ اور چین کی مشترکہ کوششوں کے باعث مارچ میں اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر کڑی پابندیوں کی منظوری دی تھی جن کے تحت شمالی کوریا پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مالی اور تجارتی پابندیاں بھی عائد کر دی گئی تھیں۔

نئی پابندیوں کے باعث چین کے سرحدی علاقے میں آمدورفت میں کمی آئی تھی۔

شمالی کوریا کے ساتھ زیادہ تر چینی تجارت اسی علاقے میں ہوتی ہے۔ تاہم بیجنگ ایسی پابندیوں کے شدت سے نفاذ میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیتا ہے جن سے عدم استحکام کی صورتِ حال پیدا ہو جائے۔

امریکہ نے جزیرہ نما کوریا میں مزید فوجی سازوسامان پہنچا دیا ہے اور اس نے جنوبی کوریا کے ساتھ سب سے بڑی مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد بھی کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان مشقوں میں شمالی کوریائی جوہری تنصیبات پر پیش بندی کے طور فوجی حملوں کی مشقیں بھی شامل تھیں۔

پیانگ یانگ نے پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے ا س سال کے وسط میں اپنے ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کی رفتار کو اور بڑھا دیا اور اُس نے زمین اور آب دوزوں سے مار کرنے والے جوہری میزائلوں کے متعدد تجربات بھی کیے ہیں۔ شمالی کوریا نے ایک سال کے دوران جوہری ہتھیاروں کا دوسرا تجربہ بھی کیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

اس کے جواب میں اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر پابندیاں بڑھا دیں اور سیکٹری جنرل بان کی مون نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس مسئلے کے پرامن حل کیلئے سفارتکاری بظاہر ناکام ہو گئی ہے۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ ’’شمالی کوریا کی طرف سے جوہری میزائلوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کے باعث جزیرہ نما کوریا میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر مجھے شدید تشویش ہے۔ اس سال کے دوران سلامتی کونسل کا دس مرتبہ اجلاس منعقد ہوا ہے اور یہ غیر معمولی واقعہ ہے کہ کسی ایک ایجنڈے پر سلامتی کونسل ایک ہی سال میں دس مرتبہ اجلاس منعقد کر رہی ہے۔‘‘

شمالی کوریا نے ستمبر کے آخر تک جنوبی کوریا کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات روک دیئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کے بدعنوانی کے سکینڈل کے بارے میں کسی ردعمل کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے جس کے نتیجے میں اُس کی سخت گیر مخالف جنوبی کوریائی صدر پارک گیون ہوئے کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسا لگتا ہے کہ کِم جونگ اُن امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر اپنے ردِعمل کے بارے میں بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔

تجزیہ نگاروں کو توقع ہے کہ شمالی کوریا سول اور واشنگٹن میں اُبھرنے والی نئی قیادت کا جلد ہی جائزہ لے گا اور اُس کے ردِ عمل سے یا تو مکالمے کی نئی راہیں کھلنے کی اُمید پیدا ہو گی یا پھر تنازعے کے خطرے میں مزید اضافہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG