رسائی کے لنکس

منیلا میں فلپائن اور امریکہ کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے چین کے سمندری تنازعات پر اپنی انتظامیہ کے دیرینہ موقف کو دہرایا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنا دورہ ایشیا مکمل کرتے ہوئے ایک بار پھر چین کی خارجہ پالیسی سے متعلق اظہار خیال کیا ہے۔

منگل کو وطن واپسی سے پہلے منیلا میں فلپائن اور امریکہ کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے چین کے سمندری تنازعات پر اپنی انتظامیہ کے دیرینہ موقف کو دہرایا۔

" ہمارا ماننا ہے کہ جغرافیائی خودمختاری اور احترام کے ساتھ لوگوں کو امن اور سلامتی سے رہنے کا حق ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کا اطلاق ضرور ہو۔۔۔ ہمارا ماننا ہے کہ تنازعات پرامن طریقے سے حل ہوں نہ کہ طاقت یا دھونس سے۔"

صدر اوباما کے بیان میں چین کا نام نہیں لیا گیا اور یہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی واشنگٹن اور منیلا کے درمیان ایک نیا دفاعی معاہدہ ہوا تھا۔

انھوں نے کہا امریکہ فلپائن کے دفاع کے عزم پر قائم ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تعلقات کو بیجنگ کے خلاف ردعمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا جنوبی بحیرہ چین میں منیلا کے ساتھ سرحدوں امور پر تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔

صدر اوباما نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس نئے سکیورٹی معاہدے کا مقصد چین کو "قابو" یا "جواب" دینا نہیں ہے۔

چین کے ذرائع ابلاغ میں صدر اوباما کے دورے پر خاصے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ اخبار "چائنا ڈیلی" کا کہنا ہے کہ مسٹر اوباما کا دورہ "یہ واضح کرتا ہے کہ واشنگٹن بیجنگ کو اپنا حریف تصور کر رہا ہے۔

اخبار نے امریکہ پر " مشکلات پیدا کرنے والے اتحادیوں کے گٹھ جوڑ" کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ "بذات خود چین کی سلامتی کے لیے خطرے کی نشاندہی ہے۔"
XS
SM
MD
LG