رسائی کے لنکس

اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے مفید نتائج برآمد ہو رہے ہیں: اوباما


وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ انھوں نے صدر اوباما سے ’تعلیم، معیشت، توانائی کے بحران اور شدت پسندی کے خاتمے‘ میں مدد دینے کے علاوہ، ڈرون حملے، اور افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات پر گفتگو کی

صدر براک اوباما اور وزیر اعظم نواز شریف نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں طویل ملاقات کی۔ بعد ازاں، میڈیا کے سامنے اپنے کلمات میں، صدر اوباما نے بات چیت کو ’مثبت‘ قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ’سودمند، طویل مدتی تعلقات کو مزید تقویت‘ دینے کا خواہشمند ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے از حد ضروری ہے، جس کے ’مفید نتائج برآمد ہو رہے ہیں‘۔

پریس بریفنگ میں، وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے صدر اوباما سے تعلیم، معیشت، توانائی کے بحران اور شدت پسندی کے خاتمے میں مدد دینے پر بات کی ہے۔

نواز شریف نے امریکی صدر کے ساتھ اپنی ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور امریکہ دونوں کے لیے خطرہ ہے اور دونوں ملکوں کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو مستحکم، خوش حال اور پُرامن ہمسائے کے طور دیکھنے کے عزم پر قائم ہے، اور اس سلسلے میں پاکستان امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے۔

آڈیو رپورٹ کے لیے کلک کیجئیے:

نوازشریف نے کہا کہ اُنھوں نے صدر اوباما سے ڈرون حملوں پر خصوصی بات چیت کی؛ اور پاکستان میں توانائی کی وسائل میں کمی کا ذکر کیا اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ عافیہ صدیقی کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان تعلقات کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے، اور بتایا کہ اُنھوں نے امریکی سرمایہ کاروں کی طرف سے پاکستان میں توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے خصوصی طور پر بھاشا ڈیم اور بونجی ڈیم کا ذکر کیا۔

پریس بریفینگ میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو مختلف قسم کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، اور یہ کہ ’ہمارے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری ڈالی گئی ہے‘، اور یہ کہ ’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں کہ ہمارے بچے خوش حال ہوں، اور گھر گھر میں خوشحالی دکھائی دے۔‘

اس سلسلے میں اُن کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ’فہم و فراست کے ساتھ سخت قدم اٹھائے جائیں۔‘

اُنھوں سے سابقہ حکومتوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے بروقت درکار سخت فیصلے نہیں کیے، اور کہا کہ ’پاکستان کو اپنے حالات درست کرنے ہوں گے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے شکیل آفریدی، سرحد پار حملوں، جماعت الدعویٰ اور ممبئی حملوں کے مبینہ ذمہ داروں کو سزا دینے سے متعلق معاملات اٹھائے گئے۔

اُن کے بقول، ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہوگا۔

’اگر، میڈیا، سول سوسائٹی اور قوم ساتھ دے تو ہم پاکستان کو مضبوط تر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔‘

دہشت گردی کے بارے میں، میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس (اے پی سی) نے طالبان سے بات چیت کا فیصلہ کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ امریکی قائدین سے بات چیت میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس معاملے کو ایک مثبت انداز سے آگے بڑھایا جائے گا، جس کے ’اچھے نتائج نکلیں گے‘۔

اس سے قبل، دونوں رہنماؤں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔

امریکہ کے چار روزہ دورے کے آخری دن، اس سے قبل جب وزیرِاعظم پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی دوپہر دو بجے اپنے وفد کے ہمراہ 'وہائٹ ہاؤس' پہنچے تو صدر اوباما نے ان کا خیر مقدم کیا۔

'وہائٹ ہاؤس' پہنچنے پر، امریکی فوج کے دستے نے 'گارڈ آف آنر' پیش کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا آغاز ہوا۔

رواں سال جون میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد نواز شریف کی صدر براک اوباما سے یہ پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

وزیرِاعظم پاکستان صدر اوباما کی دعوت پر 20 اکتوبر کو چار روزہ دورے پر امریکہ پہنچے تھے جس کے دوران میں ان کی امریکی کابینہ کے کئی اہم وزرا، ارکانِ کانگریس اور امریکی کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

'وہائٹ ہاؤس' آمد سے قبل وزیرِاعظم پاکستان نے بدھ کی صبح امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے ناشتے پر ملاقات کی، جس کے دوران، دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
XS
SM
MD
LG