رسائی کے لنکس

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’ڈیورنڈ لائن‘ کے مسئلے پر بحث پاکستان اور افغانستان کو درپیش اُن اہم اور ضروری مسائل سے توجہ ہٹانا ہے جو زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد کے بارے میں افغان صدر حامد کرزئی کے بیان پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ’ڈیورنڈ لائن‘ ایک حل شدہ معاملہ ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’ڈیورنڈ لائن‘ کے مسئلے پر بحث پاکستان اور افغانستان کو درپیش اُن اہم اور ضروری مسائل سے توجہ ہٹانا ہے جو زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔

افغان صدر حامد کرزئی نے گزشتہ ہفتے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ افغانستان نے پاکستان کے ساتھ سرحد ’ڈیورنڈ لائن‘ کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور نا ہی آئندہ کوئی حکومت کرے گی۔


افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے اور اس کی طوالت تقریباََ دوہزار چھ سو کلومیٹر سے زائد ہے۔

اس حد بندی کا تعین افغانستان کے امیر عبد الرحمٰن خان اور ہندوستان پر برطانوی دور حکومت کے وزیر خارجہ مورٹِمر ڈیورنڈ کے درمیان 1893ء کے ایک معاہدے کے بعد کیا گیا تھا۔

افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے پاکستانی چوکیوں سے متعلق بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گورسل چیک پوسٹ پر افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا تھا اور اس بارے میں افغان قیادت کی طرف سے کئی دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات بھی دیئے گئے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر چوکیاں سرحدی نگرانی کے مشترکہ مقصد کے لیے قائم ہیں اور یہ سرحد آر پار غیر ضروری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سرحدی چوکیوں سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے دوطرفہ طریقہ کار بشمول افواج کے درمیان رابطوں کو استعمال کیا جائے۔

ترجمان نے کہا کہ ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلٰی سطحی رابطوں کے ذریعے سرحد کی موثر نگرانی کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے ضروری طریقہ کار پر اتفاق رائے کیا گیا۔

صدر حامد کرزئی نے اپنے بیان میں طالبان سے کہا تھا کہ وہ اپنے ہی ملک کو تباہ کرنے کی بجائے افغانستان کے ’’دشمنوں‘‘ کی طرف اپنا رُخ موڑیں۔

اُن کے اس بیان پر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان، افغانستان اور تمام فریقوں کے درمیان قریبی رابطے اور تعاون کی ضرورت ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ ماضی میں افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان سے یہ کہتے آئے ہیں کہ مصالحت کے عمل میں شرکت کے لیے اسلام آباد طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان منفی پہلوؤں پر توجہ دینے کی بجائے افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔

افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے پاکستان کے 19 دورے کرنے کے بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی قائدین نے بھی اعتماد سازی اور تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے افغانستان کے کئی دورے کیے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کی اقتصادی ترقی اور قیام امن کے لیے تعاون جاری رکھے گا کیوں کہ اسلام آباد سمجھتا ہے کہ یہ پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG