رسائی کے لنکس

پاک بھارت تعلقات کے لیے ’مثبت انداز‘ اپنانے پر زور


بھارت، پاکستان

بھارت، پاکستان

جنوبی ایشیا پر ہونے والے ایک مذاکرے میں شریک بھارتی رکنِ پارلیمان، منی شنکر آئیر نے کہا ہے کہ ’بھارت اور پاکستان کی تاریخی عداوت رفتہ رفتہ مدھم پڑتی جار رہی ہے‘

بھارتی راجیہ سبھا کے رُکن، منی شنکر آئیر کا کہنا ہے کہ بھارت و پاکستان کی ’تاریخی عداوت رفتہ رفتہ مدھم پڑتی جار رہی ہے‘، اور ضرورت اِس بات کی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک تعلقات کے فروغ کے لیے ’مثبت‘ رویہ اختیار کریں۔

اُنھوں نے یہ بات واشنگٹن میں ایٹلانٹک انسٹی ٹیوٹ کے ساؤتھ ایشیا سینٹر کے زیر اہتمام جنوبی ایشیا سے متعلق ہونے والے ایک مذاکرے میں تقریر کرتے ہوئے کہی۔

منی شنکر آئیر، جو ماضی میں کراچی میں بھارت کے سب سے پہلے سابق قونصل جنرل رہ چکے ہیں، کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے حصول کے لیے، جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیئے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ رہا ہے، جب کہ ہمسایہ ممالک پاکستان کے ساتھ اچھے معاشی اور ثقافتی تعلقات استور کرنے کے خواہاں رہے ہیں۔

پاکستان میں ہونے والےحالیہ پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، اُن کا کہنا تھا کہ انتخابات شفاف ہوئے، جِن میں پاکستان کی نوجوان نسل نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جن کی سوچ، اُن کے بقول، پختہ نظر آئی، جب کہ، بھارت میں ایسا ہونے میں ابھی وقت درکار ہے۔

اُنھوں نے مسلم لیگ ن کے اقتدار میں آنے کو پاکستان کے لیے خوش آئند قرار دیا۔

منی شنکر آئیر نےمیاں نواز شریف کے انتخاب کے فوری بعد دیے گئے بیان کو سراہا، جِس میں اُنھوں نے بھارتی وزیر اعظم کو حلف برداری کی تقریب میں دعوت دینے کے ارادے کا اظہار کیا تھا، اورساتھ ہی ساتھ دونوں ممالک میں آنےجانے کے ویزے کی پالیسی کو نرم کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔ مزید یہ کہ میاں نواز شریف نے پاکستان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے لیے بھی بھارت سے مدد طلب کی۔

پاکستان میں دہشت گرد گروپ، لشکر طیبہ کی موجودگی پر بھارت اور امریکہ کے تحفظات کے باوجود منی شنکر آئیر نے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا۔
XS
SM
MD
LG