رسائی کے لنکس

نوجوانوں کے عالمی ریکارڈ، پاکستان توجہ کا مرکز


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

کراچی کے 31 سالہ محمد راشد نے چار عالمی ریکارڈ بنائے، وہ ہیں تو ابلاغ عامہ کے طالب علم لیکن جوڈو کراٹےکا اُنھیں جنون کی حد تک شوق ہے۔

پاکستان کے شہر لاہور میں منعقدہ پنجاب یوتھ فیسٹیول میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز کے نمائندوں کی موجودگی میں 23 عالمی ریکارد قائم کئے گئے جن میں سے 13 ریکارڈ گز¬شتہ سال دسمبر میں اور 10 ریکارڈ اس سال مارچ میں بنے۔

کراچی کے 31 سالہ محمد راشد نے چار عالمی ریکارڈ بنائے، وہ ہیں تو ابلاغ عامہ کے طالب علم لیکن جوڈو کراٹےکا اُنھیں جنون کی حد تک شوق ہے۔

وائس آف امریکہ کو اُنھوں نے اپنے ریکارڈز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’پہلا ریکارڈ اپنے سر سے ٹکر مار کر چالیس بوتلوں کے ڈھکن کھولے، دوسرا ریکارڈ ایک منٹ میں ایک انچ موٹے 68 پائن بورڈر اپنی کونی سے توڑے، تیسرا سر کی ٹکر سے تیس سیکنڈ میں 34 پائن بورڈز توڑے اور چوتھا ریکارڈ ایک منٹ میں لوگوں کے سروں پر رکھے 50 نارئیل اپنی لاتوں سے گرا کر قائم کیا۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ ریکارڈ بنانے کا خواب تو پورا ہو گیا اور مزید بہت کچھ کرنے کی بھی خواہش رکھتے ہیں، لیکن سرکاری طور پر سرپرستی نا ہونے کی وجہ سے محمد راشد کو ڈر ہے کہ وہ اُور دیگر نوجوان شاید ایسا نا کر سکیں۔

’’میں مزید عالمی ریکارڈ بنانا چاہتا ہوں مجھے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اجازت دی ہے کہ آپ مزید ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں میرے پاس مزید آئیڈیاز ہیں لیکن مجھے کوئی تعاون حاصل نہیں ہے تو میں یہاں اپیل کرونگا اعلیٰ حکام سے، ملکی اور غیر ملکی غیر سرکاری اداروں سے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے کہ وہ میری مدد کریں تاکہ میں مزید عالمی ریکارڈ قائم کر سکوں۔‘‘

لاہور میں منعقدہ پنجاب یوتھ فیسٹیول کے آرگنائزر اور اسپورٹس بورڈ پنجاب کے اعلیٰ عہدیدار عثمان انور نے وائس آف امریکہ کو پاکستان میں گزشتہ چند مہینوں میں بننے والے عالمی ریکارڈ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’گینز ورلڈ ریکارڈ والوں کو ہم نے یہاں پہ بلایا اور 25 سے زیادہ عالمی ریکارڈ بنانے کی کوشش کی اور ان میں سے 23 میں ہم کامیاب ہو گئے۔‘‘

عثمان انور نے مزید کہا کہ پنجاب یوتھ فیسٹیول میں 33 لاکھ کے قریب افراد کی شمولیت اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے، اُنھوں نے کہا کہ جب عالمی سطح پر ریکارڈ کا اندارج کرنے والے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے رابطہ کیا گیا تو اُن کے اہلکار یہاں آنے سے ہچکچا رہے تھے ۔

’’وہ پہلی مرتبہ پاکستان آئے تھے اور انھوں نے جب یہاں پہ ہماری ساری سرگرمیاں دیکھیں تو انھوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ تین مختلف اہلکار آئے تھے اور تینوں کے یہ الفاظ تھے کہ ہم نے آج تک ایسے پیشہ وارانہ انداز میں منعقد کوئی پرواگرام نہیں دیکھا۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور بے روزگاری جیسے مسائل جہاں نوجوانوں میں مایوسی کا سبب بن رہے تھے ایسے میں یوتھ فیسٹیول جیسے کھیلوں کے مقابلوں نے ناصرف نوجوانوں کو اپنی صلاحیتں منوانے بلکہ کئی ریکارڈ بنانے کا بھی موقع فراہم کیا جس سے ان کے بقول عالمی سطح پر یقینا پاکستان کا روشن پہلو اجاگر کرنے میں مدد ملی۔
XS
SM
MD
LG