رسائی کے لنکس

پاکستان: شدت پسندوں کی تلاش کے لیے سات ہزار سے زائد چھاپے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نفرت انگیز تقاریر پر پنجاب میں 436 افراد کی شناخت کی گئی جن میں سے 329 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت ملک بھر میں عسکریت پسندوں اور اُن کے معاونین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کی بیناد پر 7319 چھاپے مارے گئے جن میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 5487 چھاپے مارے گئے جب کہ سندھ میں 322، خیبر پختونخواہ میں 2887، بلوچستان میں 20 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 235 سرچ آپریشن کیے گئے۔

سرکاری بیان کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر صوبہ پنجاب میں 2837 مقدمات درج کیے گئے جن میں 1471 افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ اسلام آباد میں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر 14 افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

نفرت انگیز تقاریر پر پنجاب میں 436 افراد کی شناخت کی گئی جن میں سے 329 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جب کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں نفرت انگیز تقاریر پر 17 افراد کی شناخت کی گئی جن میں سے 10 کو گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق صوبہ پنجاب میں 1085 مقامات سے نفرت انگیز مواد کو قبضے میں لیا گیا ہے جب کہ اس حوالے سے دیگر صوبوں سے تاحال اعداد و شمار موصول نہیں ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پشاور میں ایک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد پاکستان میں انسداد دہشت گردی کا ایک قومی لائحہ عمل وضع کیا گیا، جس کے تحت ملک بھر میں دہشت گردوں اور اُن کے معاونین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

اس حوالے سے تمام صوبوں میں تواتر سے مشاورتی اجلاس بھی ہو رہے ہیں جن میں وزرائے اعلیٰ کے علاوہ متعلقہ فوجی کمانڈر بھی شرکت کرتے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت ملک بھر غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے کوائف کے اندارج کا سلسلہ بھی جاری ہے جس میں صرف پنجاب میں اب تک ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار افغان شہریوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔

پاکستان نے رواں ماہ کے اوائل ہی میں اکیسویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دی تھی، جس کے تحت دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف حال ہی میں سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن کی ابتدائی سماعت 28 جنوری کو ہو گی۔

پشاور اسکول پر حملے کے بعد پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عائد پابندی بھی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک 20 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG