رسائی کے لنکس

2014ء میں پاکستان کرکٹ: ایک جائزہ


فائل

فائل

سنہ 2014 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کامیابیوں اور ناکامیوں اور قومی ٹیم سے جڑے اہم واقعات پر ایک نظر

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی 2014ء میں بھی خواب رہی۔ افغانستان اور کینیا کی ٹیموں کے پاکستان آنے سے غیر ملکی ٹیموں کی پاکستان واپسی کی کچھ امید توبندھی، لیکن بڑی ٹیموں کی پاکستان آمد کی راہ میں اب بھی کئی رکاوٹیں ہیں جو 2015ء میں بھی دور ہوتی نظر نہیں آرہیں۔

کھلاڑیوں کا ذکر کریں تو 2014ء میں قومی ٹیم کے آف اسپنر سعید اجمل اور پھر محمد حفیظ کے بالنگ ایکشن پر اعتراضات نے جہاں ورلڈ کپ سے پہلے پاکستانی ٹیم کے لیے مشکلات کھڑی کیں، وہیں یونس خان اور مصباح الحق نے اس سال عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے بعض اعزازات اپنے نام کیے۔

2014ء میں ٹیسٹ کرکٹ

پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے 2014ء خاصا خوشگوار رہا۔ سال کی ابتدا تو اچھی نہ تھی لیکن کرکٹ کیلنڈر ایئر کا اختتام اچھا ہوا۔

سال کے دوران گرین کیپس کی ہار اور جیت کا تناسب برابر رہا۔ پاکستان نے رواں سال چار ٹیسٹ سیریز کھیلیں۔ کل 10 ٹیسٹ میچز میں سے چار جیتے، چار ہارے جب کہ دو میچز ڈرا ہوئے۔

سری لنکا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ہوم سیریز ایک، ایک سے برابر رہی۔

اگست میں پاکستانی ٹیم سری لنکا گئی تو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں میزبان نے گرین کیپس کو وائٹ واش کردیا۔

قومی ٹیم نے اکتوبر میں کینگروز کے خلاف ہوم سیریز میں تاریخی فتح حاصل کی۔ دو میچوں کی سیریز میں آسٹریلیا کے خلاف 32 سال بعد وائٹ واش کیا اور کینگروز کے خلاف 20 سال بعدکوئی ٹیسٹ سیریز جیتی۔

پاکستان نے سال کی آخری ٹیسٹ سیریز نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی۔ تین میچوں کی سیریز کا ایک میچ پاکستان نے جیتا، ایک میں نیوزی لینڈ فاتح رہا اور ایک میچ ڈرا ہوا۔

2014ء کے ون ڈے میچز

ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی 2014ء میں مایوس کن رہی۔قومی ٹیم نے پورے سال میں 16 میچ کھیلے۔ صرف چھ میں گرین شرٹس کو فتح ملی اور 10 میچوں میں انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

اس سال سری لنکا نے سب سے زیادہ، چار بار پاکستان کو شکست کا مزہ چکھایا۔ پاکستان نے 2014ء کے دوران سری لنکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلیں اور ان تمام سیریز میں پاکستان کو شکست ہوئی۔

ایشیا کپ میں پاکستان فائنل تک پہنچا لیکن سری لنکا نے پانچ وکٹ سے ہراکر کرکٹ کا ایشیائی چیمپئن بننے کا خواب بھی چکنا چور کردیا۔

پاکستان نے 2014ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف دو، بھارت، سری لنکا، بنگلا دیش اور افغانستان کے خلاف ایک، ایک ون ڈے جیتا۔


'ٹی ٹوئنٹی' اور پاکستان

پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بھی 2014ء میں شائقین کو متاثر نہ کرسکی۔ پاکستانی شاہینوں نے سال کے دوران کل سات میچ کھیلے، صرف تین جیتے اور چار میں شکست کھائی۔

ورلڈٹی ٹوئنٹی کا ایونٹ بھی پاکستانی فینز کے لیے زیادہ خوشگوار ثابت نہیں ہوا۔پاکستانی ٹیم نے چار میچوں میں سے دو جیتے اور ناک آؤٹ مرحلے سے پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔

قومی ٹیم نے اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹی ٹوئنٹی کھیلا جو وہ ہار گئی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف دو ٹی ٹوئنٹی کی سیریز ایک، ایک سے برابر رہی۔

بولرز کے ایکشن پر اعتراض

پاکستان کرکٹ کے لیے اس سال کی سب بری خبر آف اسپنر سعید اجمل کا بالنگ ایکشن مشکوک قرار دیا جانا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے نو ستمبر کو پاکستان کے جادوگر اسپنر پر پابندی لگادی۔اس کے بعد انہوں نے ساری توجہ بالنگ ایکشن درست کرنے پر رکھی اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ ایکشن درست کرانے کے لیے انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا تعاون اور ثقلین مشتاق کی بھرپور مدد حاصل رہی۔

پاکستان کرکٹ کے لیے دوسر ا بڑا دھچکا محمد حفیظ کے بالنگ ایکشن پر پابندی لگنا تھا۔سب سے پہلے بھارت میں 'چیمپئنز لیگ' کے دوران ان کے بالنگ ایکشن پر اعتراض اٹھا۔ پھر نیوزی لینڈ کے خلاف نومبر میں کھیلے جانے والے ابوظہبی ٹیسٹ میں ان کا بالنگ ایکشن مشکوک قرار پایا۔

2014ء کے نمایاں پاکستانی کرکٹرز

اب کچھ بات کرلیتے ہیں 2014ء میں پاکستان کرکٹ کے نمایاں ناموں کی جن میں بلے باز سرِ فہرست رہے۔

یونس خان
یونس خان کے لیے یہ سال بہت اچھا رہا۔ انہوں نے ٹیسٹ کیریئر میں کئی اہم کامیابیاں سمیٹیں۔ کلینڈر ایئر میں 1213 رنز بنا کر وہ پاکستانی بلے بازوں میں سب سے آگے رہے۔

یونس اکتوبر میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ کے آٹھ ہزار رنز مکمل کرنے والے تیسرے پاکستانی کھلاڑی بنے۔ انہوں نے اسی سال 28 ویں سنچری بناکر سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریز اسکور کرنے والے پاکستانی کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

اپنی عمدہ بلے بازی کے طفیل یونس خان کو 2014ء میں تمام ٹیسٹ نیشنز کے خلاف سنچری بنانے والے واحد پاکستانی کرکٹر کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

مصباح الحق
ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے لیے 2014ء ایک اور اچھا سال ثابت ہوا۔

انہوں نے نومبر میں نیوزی لینڈ کے خلاف ابوظبیص ٹیسٹ جیت کر پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ مصباح نے 33 میچوں میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی اور 15 میں فتح سمیٹ کر سابق کپتانوں عمران خان اور جاوید میاں داد کو پیچھے چھوڑ دیا۔

مصباح نے رواں سال آسٹریلیا کے خلاف ابوظبیو ٹیسٹ میں تیز ترین ٹیسٹ سنچری بناکرویون رچرڈز کا ریکارڈ برابر کیا۔ انہوں نے 21 گیندوں پر نصف سنچری بناکر ٹیسٹ کی تیز ترین ففٹی کا اعزازبھی اپنے نام کیا اور مسٹر ٹک ٹک کا خطاب اپنے ناقدین کے منہ پر دے مارا۔

شاہد آفریدی
سال کے آخری دنوں میں آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ سال فروری میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہہ کر اپنی تمام تر توجہ ٹی ٹوئنٹی پر مرکوز کرلیں گے۔

XS
SM
MD
LG