رسائی کے لنکس

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تقریباً ساڑھے 14 ہزار سرکاری اسکول مناسب عمارتی ڈھانچے سے محروم ہیں اور جہاں طلبا و طالبات درختوں تلے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ انکشاف صوبائی وزارتِ تعلیم کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں قائم لگ بھگ 59 ہزار درسگاہوں میں سے 17 ہزار سے زائد میں پینے کے صاف پانی اور ایسی دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔

سرکاری اسکولوں میں فراہم کی جانی والی سہولتوں کے حوالے سے یہ جائزہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پنجاب حکومت ملک بھر کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں میں 4 ارب روپے مالیت کے ایک منصوبے کے تحت لیپ ٹاپ کیمپوٹرز تقسیم کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔

اس مہم کے ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد انتہائی محدود ہے جبکہ ملک بھر میں بنیادی تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔

غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل پالیسی ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) سے وابستہ تعلیمی اور سماجی شعبے کے محقق عارف نوید کہتے ہیں کہ محدود وسائل بلا شبہ تعلیمی اصلاحات کی راہ میں بڑی روکاٹ ہیں لیکن سرکاری ترجیحات کی سمت درست کرنے سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

’’جب آپ اپنے زیادہ وسائل اعلی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس گروہ کو رعایت دے رہے ہیں جو بنیادی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتا تھا۔ وہ بچے جو پرائمری اسکول میں بھی نہیں جا سکتے، ان کے وسائل اٹھا کر اس طبقے کو دیے جا رہے ہیں، جو سراسر زیادتی ہے۔ آپ اپنی تعلیمی پالیسی کے ذریعے معاشرے میں تفریق پیدا کر رہے ہیں۔‘‘

پنجاب میں بر سرِ اقتدار جماعت مسلم لیگ (ن) کے ترجمان مشاہد اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں لپپ ٹاپ تقسیم کرنے کی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بنیادی تعلیم پر بھی وسائل خرچ کر رہی ہے۔

’’ہم نے پہلی دفعہ 4,286 اسکولوں میں آئی ٹی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) لیب بنوائی ہیں، جن پر فی اسکول 20 لاکھ روپے خرچ آیا ہے۔ کافی سارے اسکول ہم نے ڈویلپ کر لیے ہیں لیکن ابھی کچھ پر کام باقی ہے اور یہ بھی جلد مکمل ہو جائے گا۔‘‘

صوبہ پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی پرائمری تعلیمی نظام کی مجموعی حالت تسلی بخش نہیں ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تعلیم کے لیے مالی وسائل میں اضافے اور دستیاب وسائل کے صحیح استعمال کے بغیر اس شعبے میں اصلاحات کا نفاذ ممکن نہیں۔

پاکستان کے آئین میں کی گئی ایک حالیہ ترمیم کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتیں پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہیں۔

لیکن تاحال اس سلسلے میں کسی سطح پر کوئی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور نہ ہی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اسکول جانے کی عمر کے 72 لاکھ سے زائد بچوں کا اسکولوں میں اندراج نہیں ہے جب کہ پرائمری اسکولوں میں داخلے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ دینے والے بچوں کی شرح 58 فیصد ہے۔

XS
SM
MD
LG