رسائی کے لنکس

پاکستان اپنے تعلیمی چیلنج سے کیسے نمٹے ؟


کیا امیر اور غریب کے لئے یکساں تعلیمی نظام ایک حل ہے ؟

پاکستان کے تعلیمی نظام کی خرابیاں ہوں ۔۔یا ان کا حل تلاش کرنے کی خواہش ۔۔۔پاکستان سے امریکہ آکر کام کرنے اور پڑھنے والے اکثر اس بارے میں ایک واضح سوچ رکھتے ہیں ۔۔پاکستان سے فل برائٹ پروگرام کے تحت امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے آصف سعیدمیمن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ایلیٹ اور انگلش میڈئیم سکولوں میں جہاں زیادہ متمول طبقے یا اعلی متوسط طبقے کے بچے پڑھتے ہیں ۔تعلیمی معیار واقعی بہترین ہے ، اور بچوں کو صحیح معنوں میں چیلنج کیا جاتا ہے ۔ پھر انہی بچوں کو ہائی سکول کے بعد پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں میں داخلہ ملتا ہے یا وہ پاکستان سے باہر مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھنے جاتے ہیں ۔مغربی ملکوں میں مقابلہ کرتے ہیں ، انہیں مائیکرو سوفٹ جیسی اچھی کمپنیوں میں نوکریاں بھی ملتی ہیں ۔۔۔لیکن پاکستان میں مسئلہ درمیانے یا نچلے طبقے کے بچوں کا ہے ۔

’’اگر میں جا کےپاکستان کے سرکاری سکول میں پڑھاؤں اور بولوں کہ یہ جو پہلی جماعت کی کتاب ہے ،اسے تم رکھو ایک طرف ۔۔میں تمہیں پڑھاتا ہوں ۔تو والدین آجائیں گے کہ یہ آپ کیا پڑھا رہے ہیں ۔۔اس سے تو ہمارا بچہ امتحان میں پاس نہیں ہوگا ۔۔تو تعلیم ہمارے ہاں ایک ثقافتی مسئلہ ہے ۔۔اس کا حل ہونا کوئی دو سال یا دس سال کی بات نہیں ہے ۔۔ میری رائے میں اگر کوئی چیز کرنے کی ضرورت ہے تو وہ گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ۔زیادہ سکول بنانے سے فرق نہیں پڑے گا ۔زیادہ پیسے پھینکنے سے فرق نہیں پڑے گا ۔۔میری نظر میں ہماری ثقافت میں تعلیم کی طرف رجحان بدلنے کی ضرورت ہے ۔ اور یہ ریسرچ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنے کے لئے کس طریقےکے پڑھے لکھے لوگ ، کن کن مضامین میں درکار ہیں ۔‘‘
ہماری ثقافت میں تعلیم کی طرف رجحان بدلنے کی ضرورت ہے ۔آصف میمن ۔ پی ایچ ڈی ایجوکیشن جارج واشنگٹن یونیورسٹی
آصف جن کا تعلق کراچی سے ہے ، پاکستان میں اپنے تعلیمی تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کا تعلیمی کلچر امریکہ کے تعلیمی کلچر سے مختلف ہے ۔ جن سکولوں میں میں نے تعلیم حاصل کی ، وہاں پر رٹا سسٹم ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے ہاں اچھے سٹوڈنٹس نہیں ہیں ، یا وہ اچھی پڑھائی نہیں کرتے ، بلکہ اکثریتی کلچر یہی ہے کہ استاد یا استانی جو کچھ پڑھاتی ہیں ، آپ اس سبق کو زبانی یاد کرتے ہیں ۔
امریکہ میں یہ کلچر ہے کہ استاد یا استانی کلاس روم میں کسی موضوع پر بات کرتے ہیں ۔اکثر اوقات وہ لیکچر دیتے ہیں ۔۔بہت بار اس موضوع کو ڈسکس کیا جاتا ہے اور آپ ان کی بات دھیان سے سنتے ہیں ۔ اس ڈسکشن سے آپ سیکھتے ہیں ۔

امریکی تعلیمی نظام طالب علم کی ذہنی استعداد کو چیلنج کرتا ہے ۔ آصف میمن
اس کے برعکس پاکستان میں ،جب میں انٹر کر رہا تھا ۔ اس زمانے میں آپ نوٹس جا کر فوٹو کاپی کرتے تھے ، پھر انہیں امتحان سے پہلے اچھی طرح یاد کرتے تھے ، اور یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ان نوٹس میں جو پڑھایا جا رہا ہے، اس میں بات کیا ہے ۔ آپ اس کو یاد کرتے تھے ۔ اور جو یاد کیا ہے اس کو جا کر امتحان میں لفظی طور پرلکھ کر آتے تھے ۔ اسی سے آپ کے نمبر آتے تھے ۔امریکہ میں وہ طریقہ نہیں ہے ۔ یہاں پر آپ امتحان دیتے ہیں ۔ زیادہ تر ملٹی پل چوائس والے سوال ہوتے ہیں ۔ یہاں آپ کی انڈر سٹینڈنگ کو ٹیسٹ کیاجاتا ہے۔ یا تو پھر آپ مضمون لکھتے ہیں ، جس پر آپ کا ٹیچر آپ کو جج کرتا ہے کہ آپ نے کانسیپٹ کو سمجھا یا نہیں ۔ یہی اصل فرق ہے اور میری رائے میں اسی و جہ سے امریکہ کا تعلیمی نظام بہتر ہے ، کیونکہ یہاں ان کے ذہن کو چیلنج کیا جاتا ہے ۔ اور جو سیکھنے کا طریقہ ہے وہ بہت مختلف ہے ۔‘‘
آصف میمن کی رائے اپنی جگہ ،لیکن پاکستان کی ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی رفتار سے بڑھتی آبادی میں بیرون ملک آکر پڑھنے کا موقعہ جتنے نوجوانوں کو ملتا ہے ، ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سکول جانے والی عمر کے ڈھائی کروڑ بچے سکول ہی نہیں جاتے ۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے پچھلے مہینے (تیرہ نومبر دو ہزار بارہ کو)پانچ سے سولہ سال کی عمرکے بچوں کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کا ایک تاریخی بل منظور کیا ہے، جس کے بعداب ان والدین کو، جو اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجیں گے، جرمانہ کیا جائے گا ۔اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ دس فیصد کوٹا غریب بچوں کے لئے مخصوص کریں گے ۔
پاکستان کے تعلیمی مسائل جادو کی گولی سے حل نہیں ہونگے ۔ معید یوسف ، یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس

لیکن واشنگٹن کے یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے پاکستانی تجزیہ کار معید یوسف کا کہنا ہے کہ مفت تعلیم کا بل پاس ہونے سے تعلیم کا نہ تو معیار تبدیل ہوگا ، نہ اس کی سپلائی بڑھے گی ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست نے پچھلے پینسٹھ برس میں ایک شعوری فیصلہ کیا کہ تعلیم پر جی ڈی پی کا دو سے تین فیصد ہی خرچ کیا جائے گا۔ اور باقی کا سارا بجٹ دفاعی اور دیگر شعبوں پر خرچ کیا جائے گا ۔دوسری یہ بات یاد رکھیں کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم اب ایک صوبائی مسئلہ بن گیا ہے ، صوبوں کے پاس چلا گیا ہے ، نیشنل اسمبلی کا بل پاس ہونے سے جب تک صوبے اس پر عمل نہیں کرتے کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑے گا ۔

معید یوسف پاکستان کے تمام تعلیمی مسائل کی جڑ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی تفریق کو قرار دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے کو ملک کے سرکاری تعلیمی ڈھانچے اور میعار کی بہتری میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
’’ہماری آئرنی ہی یہ ہے کہ، جب پاکستان سے امریکہ یا برطانیہ جاتے ہیں ،تو وہ اتنا ہی اچھا پرفارم کرتے ہیں ،جتنا کوئی بھی اور کرتا ہے ۔ پاکستانی ڈاکٹر یہاں ہیں ،ا نجینئیر یہاں ہیں ، پولیٹیکل سائینٹسٹ ، پڑھانے والے ۔۔کیا کیا نام پاکستان سے نکلے ہیں ۔بدقسمتی یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے جس تعلیمی نظام سے نکلتے ہیں ، وہ صرف ملک کے تین یا چار فیصد لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ آپ اگر کسی دیہات میں ہیں ، جتنے مرضی ذہین ہوں ، اگر آپ کا اکنامک بیک گراؤنڈ ٹھیک نہیں ہے ، اگر آپ کے والدین کی تعلیم ایسی نہیں ہے تو آپ کو کوئی پرائیویٹ سکول داخلہ ہی نہیں دے گا ۔۔تو ہم نے تو امیر اور غریب کے لئے ایک الگ تھلگ نظام قائم کر لیا ہے ۔مجھے کیا دلچسپی ہوگی پاکستان کے سرکاری تعلیمی نظام میں ۔نہ میں نے وہاں پڑھنا ہے ، نہ میرے بچوں نے وہاں پڑھنا ہے ۔۔میں نے انگریزی بولنی ہے ۔ باقی سب نے اردو بولنی ہے ۔۔تو ہم نے تو اپنی سوسائٹی کے اندر اتنا بڑا خلا ، اتنی بڑی فالٹ لائن پیدا کر دی ہے کہ میرے نزدیک نہ صرف تعلیم بلکہ معاشرتی عدم برداشت جو بڑھ رہی ہے ، پولرائزیشن جتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہیں ، اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ ہم نے علیحدہ علیحدہ ایجوکیشن سسٹم پیدا کر دیئے ہیں ۔ جس کے پاس پہلے ہی وسائل زیادہ ہیں ، وہ سب سے اچھی ایجوکیشن لے رہا ہے ، جس کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں ہے ،وہ بری ایجوکیشن لے رہا ہے ۔ ‘‘
عام آدمی کو معیاری تعلیم تک رسائی دینی سب سے ضروری ہے ۔معید یوسف
معید یوسف کہتے ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی مسائل کسی جادو کی گولی سے حل نہیں ہونگے ۔لیکن اگر پاکستان میں نچلے طبقے کے بچوں کو اچھے اور معیاری تعلیمی اداروں میں داخلہ دیا جائے ، جہاں ملک کا خوشحال طبقہ پڑھتا ہے ۔ ان بچوں کی انگریزی کی استعداد بڑھانے پر بھی ویسے ہی توجہ دی جائے ، جیسے امیر طبقے کے بچوں پر دی جاتی ہے ، کیونکہ اچھی نوکری حاصل کرنے کے لئے انگریزی زبان پر عبور انتہائی اہم ہوگیا ہے ۔۔ مدرسوں میں تعلیم کا بندوبست کیا جائے لیکن ساتھ ساتھ اچھے میعار کا پبلک سکول سسٹم قائم کرنے پر بھی توجہ دی جائے تاکہ عام پاکستانی کے پاس اپنے بچے کے لئے مدرسے کی تعلیم اور اچھے سرکاری سکول کے درمیان انتخاب کا حق ہو ۔ اور تعلیم پر ملک کے قومی وسائل کا چھ، سات یا دس فیصد خرچ کیا جائے ، تب ہی تعلیم کے شعبے میں کوئی بہتری آسکتی ہے ۔
XS
SM
MD
LG