رسائی کے لنکس

اصلاحات نافذ کی جائیں تو پاکستان عظیم ملک بن سکتا ہے: اچکزئی


’پاکستان کو عملی طور پر ایک جمہوری ملک بننا چاہیئے، جہاں تمام لوگوں کےحقوق اور جذبات کا حترام کیا جائے۔ اور یہ بات صحیح معنوں میں نظرآنی چاہیئے، محض لفاظی سے کام نہ لیا جائے‘

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیرمین، محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک میں مختلف لسانی گروپوں کے حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ ‘کی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کو عملی طور پر ایک جمہوری ملک بننا چاہیئے، جہاں تمام لوگوں کے حقوق اور جذبات کا حترام کیا جائے۔ ’اور، یہ بات صحیح معنوں میں نظرآنی چاہیئے۔ محض لفاظی سے کام نہ لیا جائے‘۔

ملک کی موجودہ صورتِ حال پر ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنے قیام کے بعد ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں اصلاحات نافذ کی جاسکتی ہیں اور وہ ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ ہم اب بھی ایک شفاف اور عوامی جمہوریت کی طرف لوٹ سکتے ہیں۔

ملک میں پانچ سالہ جمہوری حکومت کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے، جناب اچکزئی نے کہا کہ ہمیں شکر ادا کرنا چاہیئے کہ اس دوران حکومت میں خلل اندازی نہیں کی گئی۔

اُنھوں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ لوگوں کو اپنے مسائل کا اچھی طرح علم ہے اور وہ الیکشن میں صحیح امیدواروں کا چناؤ کریں گے۔

سنہ2008کے الیکشن میں اپنی پارٹی کے بائیکاٹ کی وضاحت کرتے ہوئے، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ لندن کےایک اجلاس میں 36سیاسی پارٹیوں نے، بقول اُن کے، دو دن کے مذاکرات کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن میں حصہ نہیں لیا جائے گا، جو جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے تحت منعقد ہو رہے تھے۔ اُن کے بقول، ’ہماری پارٹی نے اِس عہد کا پاس کیا جب کہ دوسری جماعتوں نے اپنا مؤقف تبدیل کردیا‘۔

ممکنہ الیکشن اتحاد کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ پارٹی ایسے حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی جہاں وہ فعال ہے۔ آگے چل کر اُنھوں نے کہا کہ اقتدار میں شرکت کے بارے میں فیصلہ الیکشن کے نتائج کے بعد کیا جائے گا۔ ’ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا ردوبدل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، ہم صرف اُن پارٹیوں کے ساتھ مکالمہ کریں گے جو جمہوریت، آئین کی بالادستی اور مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہیں‘۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اُنھیں الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے اور یہ کہ بہت سے سیاسی عناصر جو کمیشن پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہ ہیں جنھیں، بقول اُن کے ’اسٹیبلشمنٹ‘ نے چھوڑ دیا ہے۔

طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، جناب اچکزئی نے کہا کہ اِن قوتوں کی تخلیق بعض مقاصد کے لیے کی گئی تھی۔

اُن کے الفاظ میں، ’یہ سب ہم لوگوں کی تربیت یافتہ ہیں اور امریکہ سے لے کر زمبابوے تک ملکوں نے مل کر یہاں لاکھوں لوگوں کو تربیت دی ہے‘۔

بقول اُن کے، ’چابی اِنہی کے پاس ہے۔ اور جن طاقتوں نے امریکہ کی رہبری میں افغانستان میں مداخلت کی اور اسے ایک مقدس جنگ کا نام دیا، وہی لوگ اِس انجن کو بند کرسکتے ہیں‘۔جناب اچکزئی کے مطابق، وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ وقت آگیا ہے۔ بہت ہوگیا۔ ہمیں اس انجن کو بند کرنا پڑے گا اور اس میں پاکستان کا کردار ہوگا۔

یاد رہے کہ طالبان کی شدید دہشت گردانہ سرگرمیوں کی بنا پر امریکہ کی سربراہی میں نیٹو اور دوسرے ملکوں کو افغانستان میں مسلح مداخلت پر مجبور ہونا پڑا تھا، جس کے بعد وہاں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔

تاہم، امریکہ نے کہا ہے کہ دس سال پر محیط آپریشن کے بعد اس کی فوجیں 2014ء کے آخر تک افغانستان سے نکل آئیں گی۔

اس پسِ منظر میں، مبصرین پاکستان کے کردار کو ہمیشہ اہم قرار دیتے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ 2014ء کے بعد پاکستان کا کردار اور بھی اہمیت اختیار کر جائے گا۔
(انٹرویو: قمر عباس جعفری)

تفصیلی انٹرویو سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG