رسائی کے لنکس

رقوم کی غیر قانونی ترسیل، پاکستان کو 'سالانہ دس ارب ڈالر' کا نقصان


فائل فوٹو

اقتصادی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے لیے اقتصادی معاملات کا اندراج بہت ضروری ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تجارت کے سہارے غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی سے ہر سال عالمی برادری کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے اور اسے سالانہ دس ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ غیرقانونی طریقے سے رقم کی یہ منتقلی جائز کاروبار کو استعمال میں لاتے ہوئے کی جا رہی ہے جس میں غیررسمی مالیاتی نظام کا بڑا عمل دخل ہے۔

اس میں چین 139 ارب ڈالر کے ساتھ سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنے والا ملک بتایا گیا جب کہ روس دوسرے، میکسیکو تیسرے اور بھارت 51 ارب ڈالر کے نقصان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔

پاکستان نے رقوم کی غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقلی کے خلاف قانون بنا رکھا ہے لیکن اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے جب تک غیر رسمی مالیاتی نظام کے خاتمے کے اقدام نہیں کیے جاتے صورتحال میں قابل ذکر بہتری نہیں آ سکتی۔

مبصرین کی طرف سے یہ خیال ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں غیر رسمی معیشت کا حجم لگ بھگ ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے برابر ہی ہے۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر عابد سلہری وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہتے ہیں کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے تدارک کے لیے اقتصادی معاملات کا اندراج بہت ضروری ہے۔

"جن ملکوں میں تمام معاشی سرگرمیوں کی باقاعدہ لکھت پڑت میں ہو وہاں پیسہ ادھر سے ادھر ہونا مشکل ہوتا لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں غیررسمی معاشی سرگرمیاں بھی (خاصی زیادہ) ہوں تو وہاں ایسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔"

پاکستان پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے یہ دباؤ بھی رہا ہے کہ وہ اپنی اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ملک میں محصولات کے دائرے کو بڑھائے جس کے لیے حالیہ برسوں میں حکومت نے متعدد اقدام کیے۔

لیکن عابد سلہری کے بقول ٹیکس کے دائرے کو بھی معیشت کو دستاویزی حد میں لانے سے ہی فعال انداز میں بڑھایا جا سکتا ہے اور اس سے رقوم کی غیرقانونی طور پر بیرون ملک منتقلی پر بھی بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

"بڑی رقوم کا لیکن دین بینکوں کے ذریعے کیا جائے جس سے رقوم کے ذرائع کا دستاویزی ثبوت بھی رہے گا۔ جب لوگوں کی تمام آمدن و اخراجات کا ریکارڈ ہو گا تو پھر پیسہ باہر لے جانا مشکل ہوگا۔"

محکمہ خارجہ کی اس رپورٹ میں افغانستان کے بارے میں بتایا گیا کہ یہاں دہشت گردوں اور باغیوں کی مالی معاونت اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن سے ہوتی ہے اور اس کے لیے بھی غیرقانونی طریقے سے ہی رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG