رسائی کے لنکس

پنجاب: ڈینگی وائرس کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

  • افضل رحمٰن

لاہور کے متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ مسلسل مچھر کُش ادویات کا استعمال کر رہی ہے۔ (فائل فوٹو)

لاہور کے متاثرہ علاقوں میں مقامی انتظامیہ مسلسل مچھر کُش ادویات کا استعمال کر رہی ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈینگی وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3,000 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق صوبائی دارالحکومت لاہور سے ہے۔

شہر کے ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آرہی ہیں اور لوگوں میں خوف و ہراس بھی پایا جا رہا ہے۔

جناح ہسپتال لاہور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جاوید اکرم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کی تمام سہولتیں موجود ہیں اور کافی مریضوں کا علاج بھی ہو رہا ہے۔ تاہم اُنھوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار بھی کیا کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ڈینگی وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کی طرف سے جو حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔ ”سائنسی طور پر یہ ثابت ہوا ہے ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھروں میں عموعی طور استعمال کی جانے والی زہریلی ادویات کے خلاف قوت مدافیت پیدا ہو چکی ہے۔‘‘

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ممکن ہے محکمہ صحت کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو جدید سائنسی طریقے اپنا کر اس وبا پر قابو پانا چاہیئے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی اس وبا سے نمٹنے کے مؤثر اقدامات کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ادویات کا چھڑکاو کیا جا رہا ہے۔

صوبے کے پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر سعید الہی نے کہا کہ پنجاب حکومت ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے سلسلے میں اپنے فرائض سے غافل نہیں ہے اور اس نے بہت پہلے اس وائرس کا خطرہ کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کی تیاری کی ہوئی تھی تاہم ان کا کہنا تھا کہ رواں سال جولائی اور اگست میں زیادہ بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت معمول سے کم ہو گیا اور ڈینگی مچھر قبل از وقت پیدا ہو گیا۔

اُنھوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اگست کے مہینے ہی میں متاثرہ علاقوں میں اسپرے کا کام شروع کر دیا تھا جس میں ان کے بقول اس ماہ اور بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سعید الہی کا کہنا تھا کہ عوام کو محکمہ صحت کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے ذریعے احتیاطی تدابیر بتائی جا رہی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے اُنھیں اپنے گھروں اور باغیچوں میں پانی جمع نہیں ہونے دینا چاہیئے اور صبح اور شام کے اوقات میں باہر نکلتے ہوئے خاص احتیاط کرنی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG