رسائی کے لنکس

غیرت کے نام پر قتل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: نواز شریف

  • عشرت سلیم

وزیراعظم نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور حکومت پاکستان کو اس دھبے سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

پاکستان میں ہر سال بڑی تعداد میں عورتیں مردوں کی غیرت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، ان کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں مگر جو واقعات کسی اخبار میں رپورٹ ہوتے ہیں ان کی بنیاد پر لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان کے مختلف حصوں میں ہر سال غیرت کے نام پر لگ بھگ ایک ہزار قتل کے واقعات ہوتے ہیں۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے پیر کو غیرت کے نام پر قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا اسلام کے آفاقی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔

وزیراعظم نے یہ بات پاکستان کی آسکر انعام یافتہ دستاویزی فلم ساز شرمین عبید چنائے سے اسلام آباد میں ملاقات میں کہی۔

شرمین عبید چنائے نے تیزاب سے حملوں کا شکار عورتوں کے موضوع پر بنائی گئی ’سیونگ فیس‘ نامی اپنی فلم کے لیے 2012 میں آسکر انعام جیتا تھا۔

اس سال ان کی ایک نئی فلم ’اے گرل ان دی ریور‘ کو ایک مرتبہ پھر آسکر کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

یہ فلم ایک ایسی لڑکی کی زندگی پر مبنی ہے جس کے والد نے اپنی پسند سے شادی کرنے پر اس کے چہرے پر گولی مار کر اُسے دریا میں پھینک دیا تھا مگر وہ زندہ بچ گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور حکومت پاکستان کو اس دھبے سے نجات دلانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام متعلقہ افراد کو موجودہ قوانین میں سقم دور کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس قبیح رسم کا خاتمہ ہو سکے۔

پاکستان کے قومی کمیشن برائے خواتین کی سابق چیئرپرسن خاور ممتاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وزیراعظم کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قتل کو غیرت کا قتل نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ صرف اس لیے کسی کی جان لینا غیرت مندانہ اقدام نہیں کہ آپ کے خیال میں آپ کی عزت خراب ہو رہی ہے۔

’’اس قسم کے واقعات اب بہت عام ہو گئے ہیں۔ پہلے ہوتا تھا کہ کہیں کہیں ملک کے کچھ علاقے تھے جہاں اس قسم کی اموات ہوتی تھیں۔ لیکن اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سب جگہ یہ روایت پھیل گئی ہے۔ شہروں میں بھی ہو جاتا ہے، گاؤں میں بھی ہوتا ہے۔ پنجاب میں بھی ہوتا ہے، سندھ میں بھی ہوتا ہے۔ ہر طرف یہ ایک طریقہ کار بن گیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ایک طرف تو قانون اس کو روک نہیں پا رہا ہے اور دوسری طرف لوگوں کو سزائیں نہیں ہو رہیں۔‘‘

خاور ممتاز نے کہا کہ اگر وزیراعظم اس مسئلے کو اتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں تو انہیں امید ہے کہ اس رسم کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدام ضرور ہوں گے۔

اس موقع پر شرمین عبید چنائے نے سرکاری ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وزیر اعظم اور (ان کی صاحبزادی) مریم دونوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر کام کریں گے، متحرک اقدامات کریں گے اور اگر یہ قوانین ہمارے ملک میں تبدیل ہو جائیں تو اس سے بہتر کوئی جیت نہیں ہو سکتی۔‘‘

وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اس فلم کی تقریب رونمائی 22 فروری بروز پیر وزیراعظم ہاؤس میں ہو گی۔

XS
SM
MD
LG