رسائی کے لنکس

’ایل او سی‘ پر فائرنگ، مقامی آبادی خوفزدہ

  • روشن مغل

فائل فوٹو

فائل فوٹو

عینی شاہدین کے مطابق ضلع باغ میں نیزہ پیر، ضلع راولاکوٹ کے افتخار آباد اور وادی نیلم کے کیرن سیکٹر میں دونوں جانب سے چھوٹے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔

کشمیر کو دو حصوں میں منقسم کرنے والی ’لائن آف کنٹرول‘ پر پیر کو بھی پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق ضلع باغ میں نیزہ پیر، ضلع راولاکوٹ کے افتخار آباد اور وادی نیلم کے کیرن سیکٹر میں دونوں جانب سے چھوٹے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔

تاہم دونوں جانب سے اس میں کسی جانی نقصان کی تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

گزشتہ جمعرات سے ’لائن آف کنٹرول‘ پر پاکستانی اور بھارت فورسز کے درمیان تیسری مرتبہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

جمعرات کو ہونے والی فائرنگ میں پاکستانی فوج کے مطابق اس کے دو اہلکار مارے گئے تھے، اگرچہ پاکستانی عسکری عہدیداروں کا کہنا کہ بھارت کی جانب بھی جانی نقصان ہوا لیکن بھارت نے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کی۔

’لائن آف کنٹرول‘ پر اس حالیہ کشیدگی کے باعث مقامی لوگوں میں خوف ہراس بڑھ گیا ہے اور کشیدگی میں اضافے کی وجہ سے لوگوں نے گھروں کے قریب مورچوں کی تعمیر شروع کر رکھی ہے۔ جب کہ پہلے سے تعمیر شدہ مورچوں کی صفائی بھی کی جا رہی ہے۔

پاکستانی کشمیر کے سرحدی قصبہ چکوٹھی کے رہائشی راجہ قاصد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انھوں نے بچوں محفوظ کرنے کے لیے مورچے تیار کر لیے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کے سبب لائن آف کنٹرول اور ’ورکنگ باؤنڈری‘ کے قریب واقعہ بعض دیہات سے لوگوں کے انخلا کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

لیکن اس کشیدگی کے باوجود پیر کے روز منقسم کشمیر کے دو حصوں کے درمیان ہفتہ وار بس سروس اور ٹرک سروس حسب معمول چکوٹھی اور تیتری نوٹ کے راستے جاری رہی۔

XS
SM
MD
LG