رسائی کے لنکس

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر اوباما کے نام بچوں کے خطوط

  • روشن مغل

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر اوباما کے نام بچوں کے خطوط

مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے صدر اوباما کے نام بچوں کے خطوط

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چار ہزار بچوں نے تحریری خطوط کے ذریعے امریکہ کے صدر براک اوباما کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبزول کرانے کی کوشش ہے ۔

امریکی صدر کو خط لکھنے کی مہم تنازع مسئلہ سے متاثرہ یتیم اور بے سہار ا بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصرو ف ایک سرکاری تنظیم کی طرف سے شروع کی گئی جس میں اسکولوں کے سات سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے بچوں نے حصہ لیا۔

منگل کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کے نمائندوں نے کہا کہ تنازع کشمیر کی وجہ سے لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بچے متاثر ہورہے ہیں۔ اُنھوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر حل کرایا جائے تاکہ اس خطے کے بچے امن و آزادی کے ماحول میں سانس لیں سکیں۔

امریکی صدر کے نام خط لکھنے والی ایک بچی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ”ہم سب بچوں نے مسئلہ کشمیر ہی کے بارے میں لکھا ہے اور ہم نے صدر براک اوباماکو صورت حال سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے“۔ بچے یہ خط بدھ کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے حوالے کریں گے۔

صدر براک اوباما کو خط لکھنے والوں میں بھارتی کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستانی کشمیر میں پناہ لینے والے مہاجرین اور حدبندی لائن کے قریب رہنے والوں کے بچے بھی شامل ہیں۔

پاکستان کشمیر کے بچوں نے امریکی صدر کو یہ خطوط ایسے وقت لکھے ہیں جب وہ آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کشمیر کے اس حصے کے بچوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کسی عالمی رہنماء کو خطوط تحریر کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG